Majid Khan Majid
جو مقدر میں نہیں اس کی طلب رکھتے ہیں ہم بھی اے یار ہیں کیا دل کو عجب رکھتے ہیں جستجو کچھ بھی نہیں تیرے سوا جان غزل ہم تو سانسیں بھی رواں تیرے سبب رکھتے ہیں شیریں گفتار بھی ہیں زلف سیہ کار بھی ہیں خوبرو چہرے پہ آنکھیں بھی غضب رکھتے ہیں تجھ کو دیکھیں جو نہ آنکھیں تو بھلا کیا دیکھیں خواہش دید میں کیا شرم و ادب رکھتے ہیں تیرے کوچے میں جو آتے ہیں فقیروں کی طرح یہ الگ بات بڑا نام و نسب رکھتے ہیں
jo muqaddar mein nahin us ki talab rakhte hain
1 views