Malik Khushnuda
Malik Khushnuda
Malik Khushnuda
Ghazalغزل
اتھی مجھ پر میا پیاری تو جھوٹیں جیو لگاتے گئے نین کے حاجباں بھج کر اشارت سوں بلاتے گئے بہونت طولاں کے وعدے دے کئے مجھ سوں دغابازی تس اوپر برہ کی اگ میں سمندر کیوں جلاتے گئے دوتن کی بات سن سن کر کپٹ دل پر تو دھرتے ہیں اتا سب بوج کر مجھ کوں پرم مد بھی پلاتے گئے چنچل سکیاں سوں مل مل کر پنا اغیار ہوتے تھے عجب معلوم ہوتا ہے جھوٹیں جھگڑا لگاتے گئے برہ کے بس کھٹے مجھ دے سکیاں کا ڈنڈ نیارے نیئں ادھر کا مجھ پلا امرت مسیحا ہو جلاتے گئے نبر یو عشق مشکل ہے حقیقت ہور مجازی کا پرت ہوروں کوں لا مجھ سوں سواں جوتیاں تو کھاتے گئے چتر خوشنود کے باتاں پر سچیں میں کج دیوانی میں کہی میں پیار سوں پیارے میرا رواں روں ہلاتے گئے
اتھی مجھ پر میا پیاری تو جھوٹیں جیو لگاتے گئے
1 views
اچپل چتر سکی کوں ہمارا سلام ہے جس کے ادھر میں شہد تے میٹھا کلام ہے جؤ جوں چکور ہوا تجے دیکھت چندر مکھی منج من میں اشتیاق جو تیرا مدام ہے تجھ باج کیوں جیووں کہ جگت دیکھ مجھ کہیں پیو باج جن جیا اسے جیونا حرام ہے نس دن مرے خیال میں تلتل جوتوں بسے جوں برہمن کے من میں سدا رام رام ہے گر پیار توں رکھے تو خوشنو سات مل قربان تجھ پہ میں یہ میرا جیؤ تمام ہے
اچپل چتر سکی کوں ہمارا سلام ہے





