SHAWORDS
Manish Mohak

Manish Mohak

Manish Mohak

Manish Mohak

poet
15Ghazal

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

بہت کچھ کھو دیا ہم نے تمہارے روٹھ جانے میں نہیں چھوڑی کمی کوئی تمہیں پھر بھی منانے میں کبھی فرصت ملے تو پوچھنا کیا حال ہے اس کا لگا پل بھر نہیں تجھ کو جسے ہنس کر بھلانے میں نگاہیں پھیر لیں تم نے سو لگتا ہے یہی مجھ کو بچا کچھ بھی نہیں ہے خوبصورت اس زمانے میں زیادہ کچھ نہیں بس عشق میں آنسو ملے سب کو ذرا تو بھی بتا کیا کیا ملا ہے دل دکھانے میں مبارک ہو نئی دنیا تمہیں محلوں کی شہزادی محبت کے سوا کچھ بھی نہیں میرے خزانے میں یہاں نفرت ہی نفرت ہے جدھر دیکھو ادھر موہکؔ مگر ڈرنا نہیں تم پیار کے دیپک جلانے میں

bahut kuchh kho diyaa ham ne tumhaare ruuTh jaane mein

1 views

غزل · Ghazal

تراشا ہے تجھے جس نے لڑکپن میں جوانی میں ہمیشہ یاد رکھنا تو اسے اپنی کہانی میں بھروسہ نام کی شے نے مجھے کچھ اس طرح لوٹا جسے دینا تھا گل اس نے دئے کانٹے نشانی میں تری خاطر ابھی زندہ ہے جس کی آنکھ کا پانی ڈبو سکتا نہیں ہرگز وہ تیرا نام پانی میں ہمیں عنوان ہونا چاہیئے تھا جس کہانی کا ہمارا ذکر تک ہوتا نہیں ہے اس کہانی میں خوشی کے موقع پر آنسو نہیں وہ روک پاتا ہے ملے ہوں ہر گھڑی آنسو جسے اس زندگانی میں میں ساحل کا ہوں باشندہ مرا مشکل ہے بچ پانا بہا لے جائے گا دریا مجھے اپنی روانی میں جسے حاصل نہیں ہوتا کبھی بھی پیٹ بھر بھوجن بھلا کیسے چلاتا ہوگا گھر اتنی گرانی میں

taraashaa hai tujhe jis ne laDakpan mein javaani mein

1 views

غزل · Ghazal

چھوڑ کے روتے ہوئے سب کو او جانے والے یاد کرتے ہیں تجھے اب بھی زمانے والے اب جنہیں دیکھو وہی دل کو دکھا دیتے ہیں یار ملتے ہیں کہاں یاری نبھانے والے پیار تیرا مجھے ہوتا بھی میسر کیسے پیار جب دے نہ سکے پیار سکھانے والے دور ہو کر میں بھلا آپ سے کیسے رہتا آپ ہی ہیں مجھے دیوانہ بنانے والے دوستی کے لیے کیوں کھل کے نہیں کہتے ہیں شوخ نظروں سے مرے دل کو چرانے والے

chhoD ke rote hue sab ko o jaane vaale

1 views

غزل · Ghazal

زیست میری نہ تیرے کسی کام کی زندگی دے سکا گر نہ آرام کی میں کہاں کہہ رہا ہوں ترے ہاتھ میں جب بھی مہندی رچے تو مرے نام کی آ بھی جاؤ نہ اب اے مرے دل ربا دیکھتے دیکھتے راہ پھر شام کی رہ گیا ہوں میں ہو کر کھلونا کوئی زندگی جب سے میں نے ترے نام کی

ziist meri na tere kisi kaam ki

غزل · Ghazal

زمانہ کہاں سے کہاں آ گیا ہے مرے دوست نے مجھ کو دشمن کہا ہے پرایا یہاں کون ہے کون اپنا مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے فقط ایک تنکا ہے میری نظر میں نظر میں تری آشیاں جو بنا ہے کریں وہ بھروسہ تو کیسے کسی پر جنہیں ہر قدم پہ ہی دھوکا ملا ہے بھلا کیوں نہ روئیں گی آنکھیں ہماری بدن اک فرشتے کا کچلا گیا ہے فدا یوں ہی تم پہ نہیں ہے یہ دنیا بڑی قاتلانہ تمہاری ادا ہے تحت میں پڑھیں گے غزل آج موہکؔ گلا ان کا تھوڑا سا بیٹھا ہوا ہے

zamaana kahaan se kahaan aa gayaa hai

غزل · Ghazal

جب دعاؤں سے ماں کی ملی زندگی بے سبب کیوں کسی سے ڈری زندگی دیکھ کر وہ مجھے آج شرمائے کیا یوں لگا جیسے کھل سی گئی زندگی ایک مدت سے میری خوشی کے لیے جی رہا ہے کوئی غم بھری زندگی تو جو بچھڑا تو کہہ دوں گا میں پیار سے الوداع اب تجھے اے مری زندگی میرے حصہ میں کیوں اتنے غم آ گئے سوچتا ہوں یہی ہر گھڑی زندگی درد سہنے کی اب مجھ میں ہمت نہیں اے خدا کر عطا پیار کی زندگی

jab du'aaon se maan ki mili zindagi

Similar Poets