SHAWORDS
M

Manisha Pandey

Manisha Pandey

Manisha Pandey

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ham mein tum mein chaahat thi

ہم میں تم میں چاہت تھی یہ بھی ایک حقیقت تھی تم کو پانا آساں تھا یہ بھی ایک مصیبت تھی عمریں دینی پڑتی تھیں رشتہ تھا یہ رشوت تھی اک عرصے تک جاگے تھے کچھ تو رات کی غفلت تھی اس بن جینا ممکن تھا اس سے ہم کو قربت تھی سیپ میں موتی کیسا تھا دریا سے کیا نسبت تھی لوگوں سے ڈر یوں بھی تھا تنہائی کی عادت تھی

غزل · Ghazal

hamaari khiDki mein aa gayaa hai

ہماری کھڑکی میں آ گیا ہے یہ چاند کب سے یہیں پڑا ہے جو اپنی کشتی ڈوبو رہا ہے کئی دنوں ناخدا رہا ہے جسے نیا سب بتا رہے ہیں تماشہ پہلے کیا گیا ہے مکاں ڈھا ہے ابھی یہ جا کر کئی برس گھر بسا رہا ہے ہمیں یقیں تھا بہت کسی پر ہمیں اسی پر شبہ ہوا ہے ہرا بھرا تھا کبھی شجر یہ شجر گھروندوں پہ آ گرا ہے ابھی ہوائیں بھی سر پھری ہیں ابھی دسمبر نیا نیا ہے ہمیں بھلانے کی کشمکش میں وہ اپنے دل سے خفا رہا ہے بدن جلے ہے کیوں بارشوں میں یہ بوند میں کیا ملا ہوا ہے ہمیں سخن کی طلب رہی ہے ہمیں سخن کا نشہ رہا ہے وہ جس نے ہم کو زمیں نہیں دی ہمیں فلک سے گرا رہا ہے

غزل · Ghazal

dil chaahat se khaali hai

دل چاہت سے خالی ہے یہ کیسی خوشحالی ہے پہلے کانہا کالے تھے اب رادھا بھی کالی ہے آگ نہیں ہے چولہوں میں کہنے کو دیوالی ہے عشق مرض کی ایک دوا ہم نے آج نکالی ہے جس نے مسلا پھولوں کو باغوں کا اب مالی ہے ہم نے اپنی بھی صورت اس جیسی ہی بنا لی ہے بکنے پر ہیں آمادہ قیمت اور گرا لی ہے بستی نے ندیاں کھا لیں جمنا جی اب نالی ہے بادل چھنٹنے والا ہے دھوپ نکلنے والی ہے ہم کو ڈر ہے بگولوں کا اور ہوا متوالی ہے

Similar Poets