SHAWORDS
Manju Kachhawa Ana

Manju Kachhawa Ana

Manju Kachhawa Ana

Manju Kachhawa Ana

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

جس شخص نے بھی کھائے ہیں سنگین زخم دل دیتے اسی کو ہیں یہاں تسکین زخم دل بے رنگ ہو گئے ہیں گل و سبزہ و بہار لیکن ابھی تلک ہیں یہ رنگین زخم دل ہنس کر مذاق جب بھی اڑایا ہے درد کا تب تب لگا کہ ہو گئے غمگین زخم دل بیٹھی ہوئی تھیں تخت پہ خوشیاں تو ٹھاٹ سے ان کو ہٹا کے ہو گئے آسین زخم دل رخ ہے اداس اشک ہیں آنکھوں میں بے شمار کرنے لگے ہیں عشق کی توہین زخم دل میں نے کہا ہرے ہی رہیں عمر بھر اناؔ کہنے لگے تھے جھٹ سے ہی آمین زخم دل

jis shakhs ne bhi khaae hain sangin zakhm-e-dil

غزل · Ghazal

چھین کر کوئی سکوں بس دے گیا ہے اضطراب جانے کیسے ربط کی یہ ابتدا ہے اضطراب ہر گھڑی مر کر گزاریں سانس اٹکی ہی رہے جیتے جی مرنے کے جیسی ہی سزا ہے اضطراب منزلوں کے بھی نشاں مبہم ہی کرتا جائے گا بس مسلسل اک سفر ہے راستہ ہے اضطراب کھنڈروں کی یا بیاباں کی طرف لے جائے جو ایسی بھٹکاتی ہوئی سی اک صدا ہے اضطراب شادمانی باغ کی تو ہو گئی مسمار سب پھول تتلی اور غنچوں میں بچا ہے اضطراب چاند تارے پھول خوشبو یہ گماں تھے عشق میں اک کھلا حاصل ہوا اور اک ملا ہے اضطراب کیسے کہہ دوں اس جہاں میں کوئی بھی میرا نہیں اجنبی ہر شے ہے چاہے آشنا ہے اضطراب

chhin kar koi sakun bas de gayaa hai iztiraab

غزل · Ghazal

جو ستارہ ٹوٹ کر پامال ہے اب خاک میں یہ کبھی تابندہ تھا جب رہتا تھا افلاک میں میں تو مٹی ہی تھی اور مٹی ہی رہ جاتی مگر کوزہ گر کے ہاتھ میں یا تھا فسوں کچھ چاک میں واقعہ تیری شرارت کا کوئی یاد آ گیا ہنس پڑی بے ساختہ میں لمحۂ نمناک میں کاٹ دو میرے پروں کو روک دو میری اڑان بکھرے ہیں خوابوں کے ٹکڑے اس خس و خاشاک میں شب نے رنگت کے لیے ہی ماہ و اختر کو اناؔ دیکھیے ٹانکا ہے کیسے اپنی اس پوشاک میں

jo sitaara TuuT kar paamaal hai ab khaak mein

غزل · Ghazal

جو غیر کے جذبات کی تعظیم کرے گا وہ اپنی خطاؤں کو بھی تسلیم کرے گا میں اس کو ملوں گی بھی تو ٹکڑوں میں ملوں گی تسلیم سے پہلے مجھے تقسیم کرے گا حق بات بھی باطل سی لگے شیریں زباں میں وہ لہجے کو اس واسطے اب نیم کرے گا وہ کام جہاں بھر کی دوائیں نہ کریں گی جو کام محبت کا فقط میم کرے گا بیکار میں ہم مانگتے رہتے ہیں دعائیں کیوں اپنے ہی لکھے میں وہ ترمیم کرے گا

jo ghair ke jazbaat ki taazim karegaa

غزل · Ghazal

جب تک بلندیوں پہ ادب سے کھڑی رہی یہ کامرانی سب کی نظر میں بڑی رہی وحشت میں وہ صدائیں تو دیتا رہا مجھے میں خاک تھی تو خاک میں ہی بس پڑی رہی دل کش مجھے بنایا مصور نے جانے کیوں جو بندشوں کے فریم میں ہر دم جڑی رہی اس نے کہا کہ جسم کے تھرو روح کی ہے راہ میں بائی پاس روڈ کی ضد پر اڑی رہی یوں تو کلائی پر ہے سبھی کے گھڑی مگر بس میں کہاں کسی کے کوئی بھی گھڑی رہی میں موم کا بدن لیے چلتی رہی اناؔ اور دھوپ میرے سر پہ ہمیشہ کڑی رہی

jab tak bulandiyon pe adab se khaDi rahi

غزل · Ghazal

کیوں بزم کی کرتا ہے تمنا دل ناداں ہو جائے گا تو اور بھی تنہا دل ناداں ہے ہجر محبت کا تقاضہ دل ناداں اب کر ہی لے تو پکا ارادہ دل ناداں ہر گام پہ ہی لوگ بدلتے ہیں یہاں دل خوش رہتا اگر تو بھی بدلتا دل ناداں کچھ اور دھڑک اور دھڑک اور دھڑک اور تو خود ہی سمجھ جائے گا قصہ دل ناداں چپ چاپ ستم وقت کے میں سہ تو رہی ہوں دیکھو نہ بنا دے یہ تماشا دل ناداں وہ آئے تھے بیٹھے تھے کوئی بات بھی کی تھی تو دیکھتا ہے خواب بھی کیا کیا دل ناداں ہوگا نہ کسی سے بھی ترے غم کا مداوا بیمار بھی تو تو ہی مسیحا دل ناداں

kyon bazm ki kartaa hai tamannaa dil-e-naadaan

Similar Poets