
Manmohan Aalam
Manmohan Aalam
Manmohan Aalam
Ghazalغزل
ہم اپنی تلخ یادوں کو بھی دفنانے نہیں جاتے غرض اب ہم کہیں بھی دل کو بہلانے نہیں جاتے تعارف از سر نو ان سے میرا کیا قیامت ہے پرانے یار بھی اب ان سے پہچانے نہیں جاتے میں ہوں اک لمحۂ موجود سینے سے لگا مجھ کو کہ ماضی میں دل ناداں کو الجھانے نہیں جاتے نہ کر کچھ رنج کہ حالات بن جاتے ہیں ایسے ہی کسی کے سر پہ کچھ الزام ٹھہرانے نہیں جاتے یہ میرا غم بھی تو اپنی مری تخلیق ہے ورنہ کسی کے دل میں خود اٹھ کر تو ویرانے نہیں جاتے اسے لے کر مرے دل میں رہے وہم و گماں برسوں جو آئے تھے خدا بن کر خدا مانے نہیں جاتے بنا مانگے بھی مل جاتے ہیں رنج و غم زمانے سے سمجھ لیتے اگر یہ ہم تو پچھتانے نہیں جاتے
ham apni talkh yaadon ko bhi dafnaane nahin jaate
آرزوئے وصال کیا کرتے ہم سے کوئی سوال کیا کرتے لمحہ لمحہ ہے بے قرار یہ دل ایسے دل کی سنبھال کیا کرتے جو نہ اپنا خیال کر پائے وہ کسی کا خیال کیا کرتے جن کو شکوہ نہیں کسی سے بھی لوگ ایسے ملال کیا کرتے ان کی باتوں میں آئے اے عالمؔ اپنا جینا محال کیا کرتے
aarzu-e-visaal kyaa karte
اس کو میرا تو مجھے اس کا سہارا نہ ملا لوگ کہتے ہیں ستارے سے ستارہ نہ ملا یہ بھی غم ہے کہ مرے غم کو سمجھنے والا کوئی اس شہر میں تقدیر کا مارا نہ ملا عیش و آرام کی ہر چیز ملی یوں تو مجھے کیسے لیکن میں جیوں اس کا اشارہ نہ ملا کیا کروں آج کہ تقدیر ہے اپنی اپنی مجھ کو طوفاں نہ ملا اس کو کنارا نہ ملا چاہئے کوئی بہانہ بھی تو جینے کے لئے مجھ کو لیکن کوئی حیلہ کوئی چارہ نہ ملا
us ko meraa to mujhe us kaa sahaaraa na milaa
چند لفظوں کے جال میں رکھا دل کو رنج و ملال میں رکھا غم کا سایا بھی اس نے اک لا کر نظم روز وصال میں رکھا جو بھی ہم نے جواب میں چاہا اس کو اپنے سوال میں رکھا زندگی کو بھی ہم نے دعوت دی موت کو بھی خیال میں رکھا جو انا تھی وہ طاق پر رکھی خود کو اس کے جلال میں رکھا جو بھی جذبہ اچھالنا چاہا وہ غزل کے جمال میں رکھا
chand lafzon ke jaal mein rakkhaa
نہ جانے کیوں اک الجھن دل میں ہر دم پائی جاتی ہے ہنسی ہونٹوں پہ آتی تو نہیں ہے لائی جاتی ہے کہاں احساس ہوتا ہے خرد یہ مجھ کو بتلائے مجھے الفاظ کی زنجیر جب پہنائی جاتی ہے جیا کانٹوں میں لیکن پھول مسکاتا رہا ہر دم کہ دل کی ٹیس غیروں کو کہاں دکھلائی جاتی ہے عروس زندگی تیری عجب تقدیر ہے کتنی کہیں ٹھکرائی جاتی ہے کہیں اپنائی جاتی ہے
na jaane kyon ik uljhan dil mein har dam paai jaati hai
اس گزرتے وقت کی یہ ترجمانی دیکھنا میں ضعیفی دیکھتا ہوں تم جوانی دیکھنا کس قدر ہے ناتواں کہ ایک تنکے کی طرح وقت کے دریا میں بہتی زندگانی دیکھنا آج پھر آوارگی میں سوئے صحرا جو گیا آپ اس کی آج قسمت آزمائی دیکھنا ہم سمجھتے ہیں محبت کا ہے جو مطلب مگر دل پہ کہتا ہے کہ پھر اس کے معانی دیکھنا میں تمہاری مسکراہٹ دیکھنے آ جاؤں گا تم کبھی آ کر مری آنکھوں میں پانی دیکھنا
is guzarte vaqt ki ye tarjumaani dekhnaa





