
Mansoor Ahmad
Mansoor Ahmad
Mansoor Ahmad
Ghazalغزل
mire jurm-e-ishq ki is qadar mujhe ai nadim sazaa na de
مرے جرم عشق کی اس قدر مجھے اے ندیم سزا نہ دے مرے دل پہ اتنی جفا نہ کر مجھے یوں نظر سے گرا نہ دے یہی ایک گوہر بے بہا مری زندگی کا ہے ماحصل مجھے ڈر ہے تیری یہ بے رخی غم آرزو کو مٹا نہ دے ہے خموش آتش زندگی مگر اک شرر ترے عشق کا مرے دل میں اب بھی چمک رہا ہے اسے بھی یاس بجھا نہ دے اب اگرچہ قابل اعتبار ہے غیر ہی کی وفا مگر مری اس وفا کو جو اعتبار سے گر چکی ہے بھلا نہ دے جو مجھے یقیں ہو کہ میں ہی تیرے حریم غم کا رفیق ہوں تو بلا سے گر مجھے بزم عیش میں بار تیری عطا نہ دے
raat ki aankh mein mere liye kuchh khvaab bhi the
رات کی آنکھ میں میرے لئے کچھ خواب بھی تھے یہ الگ بات کہ ہر خواب میں گرداب بھی تھے زندگی بانجھ سی عورت تھی کہ جس کے دل میں بوند کی پیاس بھی تھی آنکھ میں سیلاب بھی تھے زخم کیوں رسنے لگے اک ترے چھو لینے سے دکھ سمندر تھے مگر موجۂ پایاب بھی تھے چاند کی کرنوں میں آہٹ ترے قدموں کی سنی اور پھر چاند کے ڈھل جانے کو بیتاب بھی تھے تجھ سے جو لمحہ ملا لمحۂ مشروط ملا وصل کی ساعتوں میں ہجر کے آداب بھی تھے اژدہا پانیوں کا شہر نوا ٹوٹ گیا ماتمی آنکھ میں آنسو مرے بے آب بھی تھے کتنا آباد مرے ساتھ تھا سایوں کا ہجوم کیسے تنہائی کے صحرا تھے جو شاداب بھی تھے





