SHAWORDS
M

Mansoor Faaiz

Mansoor Faaiz

Mansoor Faaiz

poet
16Ghazal

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

کچھ پتہ میرا نہیں ہے آشیانوں میں کہیں گم ہوا ہوں چلتے چلتے کاروانوں میں کہیں اے دعا اس کی خبر لے کر تو جلدی لوٹنا گم گئی ہے آہ میری آسمانوں میں کہیں خواب کے رتھ جس جگہ ہوتا ہے بادل پر سفر آج شب لے جا مجھے تو ان جہانوں میں کہیں ایک سورج چھپ گیا ہے آ کے چادر میں مری ایک سایہ مل گیا ہے سائبانوں میں کہیں رات مشعل لے کے ان کو ڈھونڈنے میں جاوں گا جو چھپے بیٹھے ہیں دل کے راکھ دانوں میں کہیں گرچہ ہے دشوار پھر بھی ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میں ایک چہرہ گم ہوا آئینہ خانوں میں کہیں جن کے ہونے سے میسر ہیں تجھے آسانیاں کاش ہو میرا شمار ان مہربانوں میں کہیں

kuchh pata meraa nahin hai aashiyaanon mein kahin

غزل · Ghazal

پتلیوں پر ترے چہرے کو بنایا ہوا ہے سامنے آنکھ کے یوں تجھ کو سجایا ہوا ہے در و دیوار تمدن کو گرایا جس نے ہائے وہ حشر ہمارا ہی اٹھایا ہوا ہے اپنی پرواز پہ نازاں جو اڑا پھرتا ہے وہ پرندہ بھی ہمارا ہی اڑایا ہوا ہے دو گھڑی آنکھ لگا لو کرو احساں ان پر تم نے خوابوں کو کئی دن سے جگایا ہوا ہے زور ٹوٹے گا ہوا کا تو کہاں جائے گا جس غبارے کو فضاؤں میں اڑایا ہوا ہے میرے چلے کی ریاضت کا ثمر دیکھ ذرا اپنے ہم زاد کو پہلو میں بٹھایا ہوا ہے

putliyon par tire chehre ko banaayaa huaa hai

غزل · Ghazal

کچھ نہیں کہہ رہی یہ رات مجھے درد سے چاہیے نجات مجھے جانے لگتا ہے ایسا کیوں مجھ کو پھر گرانا ہے سومنات مجھے بے نیازی کی اس بلندی پر کچھ نہیں کہتے سانحات مجھے جب نکلتا ہوں دائرے سے کبھی کھینچ لیتی ہے کائنات مجھے یہ جہاں میں سنوار جاوں گا راس آئی اگر حیات مجھے سب تغیر ہے جب حقیقت میں کسے ممکن کہ ہو ثبات مجھے مل گئی تو میں دن بناؤں گا روشنی سے بھری دوات مجھے چلتے پھرتے ہوئے اجالے میں ڈھونڈ لیتی ہے روز رات مجھے

kuchh nahin kah rahi ye raat mujhe

غزل · Ghazal

مانا ہزار سال سے ہوں در بدر رہا لیکن کسی کی چاہ کے زیر اثر رہا جو بجھ گئے چراغ زمیں بوس ہو گئے میں جل رہا تھا اس لئے میں بام پر رہا دریا کے پار سارا قبیلہ اتر گیا لیکن وہ ایک شخص جسے خود کا ڈر رہا دیوانہ وار پھرتا رہا ہے جو دشت دشت آخر وہ کس گمان کے زیر اثر رہا یاران خوش نصیب میں ہوگا مرا شمار کچھ روز تجھ سے دوست تعلق اگر رہا پھر اپنے آپ کا بھی وہ رہ پائے گا کہاں کچھ دیر میرے ساتھ اگر ہم سفر رہا آخر مجھے بھی تمغۂ رسوائی مل گیا جو کھیل کھیلنے کا نہ تھا کھیل کر رہا منصورؔ تیرا نام شہیدوں میں آ گیا تا حشر ورنہ کون یہاں معتبر رہا

maanaa hazaar saal se huun dar-ba-dar rahaa

غزل · Ghazal

سوچ کر دریا ہے کیا صحرا ہے کون وادیٔ حیرت میں وہ گم سا ہے کون جھک رہا ہے آسماں نیچے کی سمت خاکداں پر دیکھ تو آیا ہے کون ہونٹ پر سچ چپ کی صورت کھل اٹھا راز افشا جب ہوا دنیا ہے کون اٹھ رہی ہوں کس کے چلنے سے سمجھ دھول میں ہوں پھر بتا رستا ہے کون جانتا ہوں نیند میں ہوں چل رہا سوچتا ہوں خواب میں آیا ہے کون

soch kar dariyaa hai kyaa sahraa hai kaun

غزل · Ghazal

لوگ جس شخص کو سردار بنا دیتے ہیں اپنی تقدیر کا مختار بنا دیتے ہیں شعر کا رشتہ کسی فکر سے ہو یا نہیں ہو چند الفاظ اسے شہکار بنا دیتے ہیں تجربے پر ہے نئے علم کی بنیاد صدا دائرہ دیکھ کے پرکار بنا دیتے ہیں صاحب کن فیکوں میرے بھی سینے میں اتار لفظ جو آگ کو گلزار بنا دیتے ہیں اتنا آساں نہیں یہ عشق دوبارہ بننا آپ کہتے ہیں تو سرکار بنا دیتے ہیں ہمی مٹی ہیں ہمی چاک ہمی کوزہ گر آپ کو جو بھی ہے درکار بنا دیتے ہیں اپنے دروازے پہ فائزؔ ہے شب و روز ہجوم ہم ہیں وہ لوگ جو کردار بنا دیتے ہیں

log jis shakhs ko sardaar banaa dete hain

Similar Poets