SHAWORDS
Mansoor Mahboob

Mansoor Mahboob

Mansoor Mahboob

Mansoor Mahboob

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

زور سے چیختے پکارتے ہیں کچھ نئے سے زباں پہ آبلے ہیں دیکھ سکتے نہیں ذرا سا ہم تو چلو آؤ خواب لوٹتے ہیں ڈال رکھے ہیں کب سے کیسے میں صرف اپنوں میں رنج بانٹنے ہیں اپنے ہر موڑ پر نہ جانے کیوں روشنی کے سیاہ قمقمے ہیں ساتھ دو پل گزار کے پھر سے یاد اک گم شدہ سی ڈھونڈتے ہیں گھر ہو کے بھی سفر ادھورا ہے قدر کے بھی عجیب فیصلے ہیں ایک صف میں کھڑے ہوئے ہم سب اپنے اپنے بتوں کو پوجتے ہیں چائے دو کپ انڈیل کر منصورؔ آج بھی اس کی راہ دیکھتے ہیں

zor se chikhte pukaarte hain

غزل · Ghazal

کچھ یوں میں اپنے آپ سے کٹتا چلا گیا بس خال و خد سے رہ گئے چہرہ چلا گیا افسانہ میرے جہد کا اتنا سا تھا کہ میں اندیشۂ یقین سے لڑتا چلا گیا آیا نہیں پلٹ کے اجالا کبھی یہاں حالانکہ گھر سے کب کا اندھیرا چلا گیا بھنورے نڈر تھے کوہ حقیقت سے جا لڑے میں سایۂ سراب سے ڈرتا چلا گیا جس جا کیا ذرا سا کبھی نیت قیام اس جا کے پیڑ پیڑ کا سایہ چلا گیا اک لو کا رود خانۂ مضطر سا ہوں مگر چپ چاپ دشت کرب میں بہتا چلا گیا یوں مبتلائے خوف تھا مجھ سے عدو مرا لاشے پہ میرے تیر چلاتا چلا گیا دنیا الجھ کے رہ گئی حرص و ہوس کے گرد منصورؔ کیف وجد میں چلتا چلا گیا

kuchh yuun main apne aap se kaTtaa chalaa gayaa

غزل · Ghazal

کبھی نہ لہر بن سکا بہاؤ میں گزر گیا سکوں کی آرزو لئے تناؤ میں گزر گیا گزر گئی تمام عمر جس کی آرزو لئے وہ لمحۂ وصال رکھ رکھاؤ میں گزر گیا کبھی کوئی حسیں لگا کبھی کوئی حسین تر مرا شباب حسن کے چناؤ میں گزر گیا ستم کہ بحر عشق میں کبھی نہ میں اتر سکا مرا سفر تو حسرتوں کی ناؤ میں گزر گیا مفاہمت کا درس جو شکم کی آگ سے ملا سو آفتوں کا دور سب جھکاؤ میں گزر گیا تمام عمر جس سبب گھمنڈ تجھ کو تھا بہت وہ مال و زر ترے ہی بچ بچاؤ میں گزر گیا میں اجنبی کے ہاتھ تیرے سامنے ہی بک گیا ترا تمام وقت بھاؤ تاؤ میں گزر گیا نہ ہم سفر ملا مجھے نہ کوئی راستہ ملا پڑاؤ میں جنم ہوا پڑاؤ میں گزر گیا

kabhi na lahr ban sakaa bahaav mein guzar gayaa

غزل · Ghazal

مزاج شہر کی خشکی سے اجنبی میں تھا پرمپرا کی کہانی میں بدعتی میں تھا غریق فسق کے چہرے کو یاد پھر سے کر مسرتوں بھرے ہونٹوں پہ کپکپی میں تھا ترا یہ زعم کہ تو خود ہی آ گیا ہے یہاں اے نا سمجھ تری آنکھوں کی روشنی میں تھا غزل غزل پہ توجہ سمیٹنے والے ترا کنایہ و تشبیہ و شاعری میں تھا جسے تو شان سے سر پر اٹھائے پھرتا ہے اسی ظرافت دل کا دھرا کبھی میں تھا ترے وجود سے تھی رنگت و بہار و صبا ترے چمن کے گلابوں کی تازگی میں تھا مجھے نکال کے اس نے بھلا کیا منصورؔ بہشت زار کا بس اک جہنمی میں تھا

mizaaj-e-shahr ki khushki se ajnabi main thaa

غزل · Ghazal

غرق سا وہ ہو گیا اک عالم خاموشی میں جس نے بھی جھانکا مرے خوابوں کی لائبریری میں ٹوٹ کر پھر سے جڑا ہوں خود بخود مدت کے باد اب نہ جانے کیا بنا ہوں اس نو بے ترتیبی میں حال دل کس کو سنائیں جائیں کس کے پاس ہم خود کو لوٹا ہے ہمی نے اپنی پہرے داری میں ہر کوئی کہتا پھرے ہے یہ کہانی میری ہے نام جب لکھا نہیں میں نے سوانح عمری میں لہریں بن کر بہہ گئے غم سب مرے یک دم کہ جب میں برہنہ پاؤں اترا ٹھنڈے ٹھنڈے پانی میں وہ بڑھاپا دیکھ لیتا ہے جوانی میں سدا جس کا بچپن ہو بسر کنبے کی ذمہ داری میں پاس بیٹھے رات بھر منصورؔ مجھ کو دیکھنا لوٹنا ان کو کبھی آیا نہ افراتفری میں

gharq saa vo ho gayaa ik aalam-e-khaamoshi mein

غزل · Ghazal

ہر پل جلائے آنسوؤں سے دید کے دیے بجھنے نہیں دئے کبھی امید کے دیے کابوس دیکھتا وہ رہا عمر بھر سدا جس نے چرائے دوسروں سے نیند کے دیے اکتا کے اک ہی ورد سے تسبیح رو پڑی پھر خود میں خود پرو دئے تجرید کے دیے آیات حفظ کیں تری پھر بھی نہ جانے کیوں سوکھے پڑے ہیں سب تری تاکید کے دیے تاریکی سے جھگڑ پڑی تقلید کی دوات اور روشنی سے جا لڑے تجدید کے دیے کرتے ہو قید کیوں انہیں اے وقت کے یزید سجتے ہیں صرف دار پہ توحید کے دیے منصورؔ فکر کیوں کرے فردا کی کچھ ذرا جب ساتھ ہوں حضور کی تائید کے دیے

har pal jalaae aansuon se diid ke diye

Similar Poets