SHAWORDS
Manzar Azmi

Manzar Azmi

Manzar Azmi

Manzar Azmi

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

qissa hai na rudaad kahaani bhi nahin hai

قصہ ہے نہ روداد کہانی بھی نہیں ہے اب یاد مجھے اس کی نشانی بھی نہیں ہے جتنی ہے لبوں پر یہ مرے پیاس کی شدت اتنا تو مرے حصے میں پانی بھی نہیں ہے مجھ کو بھی نہیں ناز ذرا اپنے سخن پر دنیا مرے لہجے کی دوانی بھی نہیں ہے بدلی ہے بہت اس سے مری اب کی شباہت حالانکہ یہ تصویر پرانی بھی نہیں ہے مصروف اگر حسن ہے خود میں تو مجھے کیا فرصت میں ابھی میری جوانی بھی نہیں ہے دنیا کی نظر میں ہے وہ مقبول سخنور شعروں میں ابھی جس کے روانی بھی نہیں ہے میں کس کے لیے دل کے چراغوں کو جلاؤں جب شام کوئی میری سہانی بھی نہیں ہے کیوں اس کو لگاتا نہیں سینے سے کبھی تو وہ جب کہ ترا دشمن جانی بھی نہیں ہے دنیا نہ ابھی تجھ کو سمجھ پائے گی منظرؔ نادان نہیں ہے تو سیانی بھی نہیں ہے

غزل · Ghazal

kar ke daghaa vo phir se vafaa DhunDne lage

کر کے دغا وہ پھر سے وفا ڈھونڈنے لگے یعنی مرض بڑھا کے دوا ڈھونڈنے لگے بیزار ہیں اندھیروں سے اتنے کہ رات کیا ہم گھر میں صبح و شام دیا ڈھونڈنے لگے وہ لوگ جو خزاں کے سدا ہم نوا رہے گلشن میں فصل گل کی فضا ڈھونڈنے لگے پوری نہ اس کے دل کی کبھی خواہشیں ہوئیں دنیا میں حد سے جو بھی سوا ڈھونڈنے لگے نا آشنائے رحم و کرم خوگر جفا جب عشق میں پڑے تو وفا ڈھونڈنے لگے جن کی نگاہ میں تھا فرشتہ صفت کبھی کیا ہو گیا ہے مجھ میں خطا ڈھونڈنے لگے دیوانے ہیں نہ جانے یہ کس راہ شوق کے صحرا میں گلستاں کی ہوا ڈھونڈنے لگے وہ ماہ رخ ہے جب سے ہماری نگاہ میں ہر رات چودھویں کی ضیا ڈھونڈنے لگے منظرؔ ہیں کیسی سادہ طبیعت کے آپ بھی بد خواہوں میں جو حرف دعا ڈھونڈنے لگے

غزل · Ghazal

mahfil pe asar kuchh na hidaayaat kaa hogaa

محفل پہ اثر کچھ نہ ہدایات کا ہوگا چرچا یہاں پھر کوئے خرابات کا ہوگا میں اس سے بچھڑتے ہوئے یہ سوچ رہا ہوں وہ وقت بھی کیا خوب ملاقات کا ہوگا کی دل نے جو سرگوشی تو دانش نے کہا یہ کیا مجھ پہ اثر تیری خرافات کا ہوگا کیا اہل سیاست کو خبر اس کی نہیں ہے شہروں پہ اثر کیسا فسادات کا ہوگا میں جس سے سدا بچتا رہا ہوں سر محفل دینا بھی جواب ایسے سوالات کا ہوگا ہر آن جو دنیا کو دکھانے کے لئے ہیں اب سوچیے کیا ایسی عبادات کا ہوگا یہ اہل جہاں سوچ کے اب مجھ کو بتائیں کیا خاتمہ فرسودہ روایات کا ہوگا جو زخم مرے دل کو زمانے سے ملے ہیں بھر جائیں تو کیا ان کے نشانات کا ہوگا منظرؔ تو سدا حق کے لئے لکھ تو رہا ہے پر سوچ لے کیا تیری عبارات کا ہوگا

غزل · Ghazal

phir nae zakhm nae karb ki jaagir liye

پھر نئے زخم نئے کرب کی جاگیر لیے ہم بھٹکتے ہیں تری یاد کی تصویر لیے عزم و ہمت سے لیا کام تو آزاد ہوئے کب تلک رہتے بھلا پاؤں میں زنجیر لیے جیتنا ہے تو میاں جنگ نہیں دل جیتو کیوں چلے آتے ہو میدان میں شمشیر لیے کاش کوئی ترے دیدار کی صورت نکلے کھوئے کھوئے ہوئے رہتے ہیں یہ تدبیر لیے ہجر کی رات بہت بوجھ ہے دل پر لیکن ہم جیے جاتے ہیں امید کی تنویر لیے ہم بھی انسان ہیں اوروں کی طرح جیتے ہیں اپنی آنکھوں میں حسیں خواب کی تعبیر لیے عشق کرتے ہیں مگر عشق میں مر جاتے ہیں اہل دل پھرتے نہیں عشق کی تشہیر لیے خاک کردار پہ سب ڈال کے کرتے ہیں گلہ اور ہم جیتے ہیں مجبور سی تقدیر لیے ہم بھی خوشبو میں نہا جاتے ہیں اس دم منظرؔ جس گھڑی آتے ہیں وہ زلف گرہ گیر لیے

غزل · Ghazal

is daur mein bhi zaalim-o-jaabir ki tarah hain

اس دور میں بھی ظالم و جابر کی طرح ہیں کچھ لوگ یہاں شر کے عناصر کی طرح ہیں کیا حال ہے اس شہر کے لوگوں کا نہ پوچھو تپتے ہوئے صحرا کے مسافر کی طرح ہیں کیا ہم سے خطا ہو گئی کیا جرم ہوا ہے کیوں ملک میں ہم اپنے مہاجر کی طرح ہیں کل تک جو رہے ظلم کی بنیاد پہ قائم کچھ ایسے محل آج مقابر کی طرح ہیں یادیں بھی تری دل میں مرے ان دنوں ہمدم ہارے ہوئے لشکر کے مناظر کی طرح ہیں غم ہو کہ خوشی رکھتا ہوں سینے سے لگا کر یہ دونوں مرے دل کے عناصر کی طرح ہیں بس ایک نظر میں ہی بنا لیتی ہیں اپنا آنکھیں تری بنگال کے ساحر کی طرح ہیں یہ آپ کی مرضی ہے کہ جو چاہے کریں آپ دنیا میں مگر آپ مسافر کی طرح ہیں رشتہ ہو کوئی اس کو نبھانے میں اے منظرؔ اس وقت بھی ہم اپنے اکابر کی طرح ہیں

غزل · Ghazal

kisi bhi haal mein ye kaam darbaari nahin kartaa

کسی بھی حال میں یہ کام درباری نہیں کرتا میں ظالم حکمراں کی حکم برداری نہیں کرتا یہ ممکن تھا مرے دشمن مجھے برباد کر دیتے اگر بچ کر نکلنے کی میں ہشیاری نہیں کرتا سدا رکھتا ہوں میں کردار اپنا آئنے جیسا کسی کے ساتھ بھی کوئی ریاکاری نہیں کرتا بھلا کیسے خدا کو آخرت میں منہ دکھائے گا جو روز حشر کی دنیا میں تیاری نہیں کرتا ہمیشہ چاہتا ہے دوسروں سے جو وفاداری وہی خود دوسروں سے کیوں وفاداری نہیں کرتا ہیں اتنے غم کہ دل میرا بھی روتا ہے محبت میں مگر میں اشک آنکھوں سے کبھی جاری نہیں کرتا نہ جانے کیا ادا ہے یہ مرے معصوم دلبر کی وہ دل کی بات تو کرتا ہے دل داری نہیں کرتا بہت سے مرحلے آتے ہیں بن کر بوجھ بھی لیکن کسی بھی بوجھ کو میں ذہن پر طاری نہیں کرتا فقط لوگوں سے سنتے ہیں کبھی تھا دور یاری کا کسی سے اس زمانے میں کوئی یاری نہیں کرتا سدا بوتے ہیں منظرؔ ملک میں جو بیج نفرت کے میں ایسے رہنماؤں کی طرف داری نہیں کرتا

Similar Poets