Manzar Rivandhavi
shab ke maathe pe kiran pyaar ki lahraati hai
شب کے ماتھے پہ کرن پیار کی لہراتی ہے زندگی پیار کے پہلو میں سمٹ آتی ہے دن گزرتا ہے اجالوں کی توقع کرتے رات زخموں کی مدارات میں کٹ جاتی ہے دیکھتا ہوں تو اندھیروں کے وہی لشکر ہیں سوچتا ہوں تو کوئی صبح نکھر جاتی ہے جس طرف دیکھیے ماحول کی پیشانی پر ایک جلتی ہوئی تحریر نظر آتی ہے اک کہانی ہے کہ آوارہ تمنا جس کو غم کی دیوار سے لگ کے ابھی دہراتی ہے