Manzoor Ali Aaqib
Manzoor Ali aaqib
Manzoor Ali aaqib
Ghazalغزل
rah ke tufaan-o-havaadis mein hi mil jaaungaa
رہ کے طوفان و حوادث میں ہی مل جاؤں گا وقت کے ساتھ چلوں گا تو بدل جاؤں گا قصر سلطانی مبارک ہو یہ اے زاغ تجھے میں تو شاہیں ہوں پہاڑوں میں بھی پل جاؤں گا بندگی کا تری اب مجھ کو قرینہ آیا اب زمانے کی غلامی سے نکل جاؤں گا تم نے جو سوز کی سوغات مجھے بخشی ہے رفتہ رفتہ میں اسی سوز میں جل جاؤں گا تیرگی جب بھی گلستاں میں بڑھے گی ہمدم بن کے قندیل سر شام میں جل جاؤں گا
un se un jaisi ravish apnaaein kyaa
ان سے ان جیسی روش اپنائیں کیا اپنی ہی نظروں میں ہم گر جائیں کیا اپنی روداد الم دہرائیں کیا سامنے ہیں وہ انہیں شرمائیں کیا بک رہے ہیں جس طرح اہل سخن ہم بھی ان ہی کی طرح بک جائیں کیا منزل مقصود تو نظروں میں ہے مشکلات راہ سے گھبرائیں کیا حشر جو ہونا ہے وہ ہو جائے گا کوچۂ جاناں سے اب ہم جائیں کیا خود پسندی ہے تمہاری بزم میں داد اپنے فن کی ہم یاں پائیں کیا عشق کی گرمی سے ہیں ہم فیضیاب گرمیٔ ماحول سے گھبرائیں کیا طعنے بھی ہنس کر سنیں گے غیر کے عشق میں رسوائی سے ڈر جائیں کیا شیخ صاحب سے تو ان بن ہو گئی گھر برہمن کے بھی اب نہ جائیں کیا وہ تو شاعر ہو گیا ہے اے ندیمؔ راہ پر عاقبؔ کو اب ہم لائیں کیا
ai dost ik ajiib saa manzar liye phiraa
اے دوست اک عجیب سا منظر لئے پھرا ہونٹوں پہ تشنگی کا سمندر لئے پھرا آب حیات پی نہ سکے تشنہ کام لوگ میں شاہ رہ پہ شیشہ و ساغر لئے پھرا زحمت نہ کی سمجھنے کی اہل دیار نے اپنی متاع فکر سخن ور لئے پھرا تیرا خیال تیرا تصور تمام عمر مجھ کو دیار غیر میں در در لئے پھرا ہے وقت کس کے پاس اب اتنا جو پڑھ سکے افکار کا میں چہرہ پہ دفتر لئے پھرا شاید کہ کوئی ایک بھی پہچان لے مجھے میں اپنے اس وجود کو گھر گھر لئے پھرا اک روز بھی نہ آیا کوئی حال پوچھنے میں اپنا حال زار برابر لئے پھرا لو اہل کوش ہو گئے منزل سے ہمکنار کم کوش صرف اپنا مقدر لئے پھرا عاقبؔ زمین تنگ ہوئی ہم پہ دیکھیے ہر شخص میرے واسطے پتھر لئے پھرا
naa-tavaan ek ham rah gae
ناتواں ایک ہم رہ گئے اور یہ رنج و غم رہ گئے تم تو رخصت ہوئے بزم سے غم اٹھانے کو ہم رہ گئے تم تو ہنستے ہوئے چل دئے ہم لئے چشم نم رہ گئے آدمیوں کی بہتات ہے آہ انسان کم رہ گئے غم گسار اٹھ گئے بزم سے ناصح محترم رہ گئے پی کے جام اجل وہ گئے تشنہ لب ایک ہم رہ گئے غم ہمیں اتنے عاقبؔ ملے بن کے تصویر غم رہ گئے
na hogaa shauq ye ab kam hamaaraa
نہ ہوگا شوق یہ اب کم ہمارا ترے کوچہ میں نکلے دم ہمارا یقیں جو اس پہ ہو محکم ہمارا بگاڑے گا یہ کیا عالم ہمارا یہاں تفریق ہر پرچم تلے ہے فقط تفریق کش پرچم ہمارا ہم اپنا جائزہ لے کر تو دیکھیں کہاں ہے آج یہ سر خم ہمارا نہ سمجھے وہ قصور ان کا نہیں ہے اشارہ تھا ہی کچھ مبہم ہمارا یہاں ہے کون اپنے غم سے خالی کہیں اب کس سے آخر غم ہمارا جو عالم اہل دنیا کا ہے یارو وہی عالم ہے بیش و کم ہمارا کہیں کیا تم سے ہم اس سے کہیں گے کرے گا دور وہ ہی غم ہمارا رہ انسانیت بس ایک ہی ہے یہی اعلان ہے پیہم ہمارا الٰہی صبر دے راہ وفا میں مزاج ہو جائے نہ برہم ہمارا وفا کا یہ مری رد عمل ہے کیا قاتل نے بھی ماتم ہمارا انہیں احباب ہی نے تو کیا ہے چراغ آرزو مدھم ہمارا بلاؤ ابن مریم کو بلاؤ لبوں پر آ گیا ہے دم ہمارا ہوا کیا ہائے عاقبؔ بے خودی میں ہوا دامن یہ کیسے نم ہمارا





