Manzoor Ali Rahi
اس دور کا ہر آدمی عیار ہو گیا اپنا ضمیر بیچ کے سردار ہو گیا خدمت کی فکر ہے نہ کسی کا ذرا خیال خادم ہماری قوم کا غدار ہو گیا سمجھو کہ خوف اس کو بھی چنگاریوں کا ہے بارود کا جو ملک خریدار ہو گیا دن رات لٹ رہی ہیں غریبوں کی بستیاں سرگرم جب سے لوٹ کا بازار ہو گیا سر چڑھ کے بولتا ہے ہر اک آدمی کے وہ قبضے میں جس کے آج کا اخبار ہو گیا اتنی سی بات پر میں اذیت نصیب ہوں سچائی کا زبان سے اظہار ہو گیا رہبر لگے ہیں کرنے یہاں رہبری کا کام راہے ہر ایک راستہ دشوار ہو گیا
is daur kaa har aadmi 'ayyaar ho gayaa