SHAWORDS
Manzoor Hasan Nami

Manzoor Hasan Nami

Manzoor Hasan Nami

Manzoor Hasan Nami

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

bad-tar hai maut se miraa jiinaa tire baghair

بد تر ہے موت سے مرا جینا ترے بغیر دنیا نہیں ہے اب مری دنیا ترے بغیر کچھ بھی رہا نہ زیست کا قصہ ترے بغیر خاموش یاں زبان ہیں گویا ترے بغیر بے رونقی جمود تعطل سکوت مرگ ایسا ہے کائنات کا نقشہ ترے بغیر یکسوئیے خیال کی اب لذتیں کہاں در در بھٹک رہی ہے تمنا ترے بغیر بربادیوں سے ربط اجل سے ہے ساز باز سرگرمیاں جنوں کی ہیں کیا کیا ترے بغیر بے کار ہے ہر ایک پرستش جو تو نہیں برباد ہیں کنشت و کلیسا ترے بغیر تھی دل سے ہی کشاکش ناز و نیاز سب ہوگا نہ حسن و عشق کا چرچا ترے بغیر ہنسنا تری نظر کے تبسم کے ساتھ تھا اب زخم زخم ہے مرا رونا ترے بغیر لاچار ہو کے بیٹھ گئیں چارہ سازیاں ہوگا ترا مریض نہ اچھا ترے بغیر یک بارگی زمانے کی رفتار رک گئی بھولا ہے وقت آہ گزرنا ترے بغیر نامے سے تیرے کیا ہو پرایوں کو واسطہ اپنا ہوا نہ جب کوئی اپنا ترے بغیر

غزل · Ghazal

ban gaiin mahjuriyaan aazaar-e-jaan kis se kahein

بن گئیں مہجوریاں آزار جاں کس سے کہیں ہم دل بیتاب کی بیتابیاں کس سے کہیں آہ سامان سکون زندگی ممکن نہیں ہو گئے دشمن زمین و آسماں کس سے کہیں زندگی کی بزم اہل درد سے خالی ہوئی درد میں ڈوبی ہوئی یہ داستاں کس سے کہیں گردشوں نے لوٹ لی یکسر متاع زندگی باغباں نے نوچ پھینکا آشیاں کس سے کہیں زندگی کا لمحہ لمحہ صد مصائب در بغل ہر گھڑی ہے ایک دور امتحاں کس سے کہیں گردشیں ناکامیاں محرومیاں مایوسیاں ہو گئی ہے زندگی بار گراں کس سے کہیں کون دیکھے حسن کی پیہم ستم ایجادیاں عاشقی کی بندش آہ و فغاں کس سے کہیں ہجر کی کیفتیوں سے ہے کسی کو کیا غرض ہم یہاں پر مضطرب ہیں تم وہاں کس سے کہیں سننے والوں سے ہوا مفقود سننے کا مذاق گلستان عشق کی بربادیاں کس سے کہیں چپہ چپہ اہل دل کے واسطے ہے خار زار ذرہ ذرہ عاشقوں سے بد گماں کس سے کہیں دل کی باتیں لب پر آئیں بھی تو سنتا کون ہے اٹھ گئے سب ہم خیال و ہم زباں کس سے کہیں یار جب اغیار ہو جائیں تو کیا لطف سخن مہرباں ہو جائیں جب نا مہرباں کس سے کہیں دل کے ارماں رفتہ رفتہ نامیٔؔ اندوہ گیں جا رہے ہیں کارواں در کارواں کس سے کہیں

غزل · Ghazal

har ek shai mein nihaan ruh-e-justuju tum ho

ہر ایک شے میں نہاں روح جستجو تم ہو ہمارے درد بھرے دل کی آرزو تم ہو مرے جنوں نے گریباں کو چاک کر کے انہیں کہا اشاروں میں سامان صد رفو تم ہو جدھر نگاہ گئی تم ادھر نظر آئے تمہارے جلوے ہیں ہر شے میں چار سو تم ہو کہے گی لاکھ میں میری نگاہ عالم میں زمانے بھر کے حسینوں میں خوبرو تم ہو چٹک کے کہتے ہیں تم سے یہ غنچہ ہائے چمن ہمارا حسن دل آویز رنگ و بو تم ہو چلے ہو سامنا اس برق وش کا کرنے کو سنبھل کے ہونا جو منظورؔ روبرو تم ہو

غزل · Ghazal

dil hote hote manzil-e-jaanaana ho gayaa

دل ہوتے ہوتے منزل جانانہ ہو گیا آباد رفتہ رفتہ یہ ویرانہ ہو گیا وہ ہیں کہ دو جہان کو اپنائے جاتے ہیں میں ہوں کہ اپنی ذات سے بیگانہ ہو گیا جلنے کا شوق اف ترے کشتے کی خاک کا جو ذرہ اڑ گیا وہی پروانہ ہو گیا تیری تجلیوں نے وہ بدلی ہیں صورتیں میرا خیال ایک پری خانہ ہو گیا وہ راہ راہ عشق ہے جس میں کہ رہ نورد دیوانہ جو ہوا وہی فرزانہ ہو گیا مستی کی لغزشوں کو تھا احساس بندگی گرنا ہی میرا سجدۂ شکرانہ ہو گیا ساقی کی آنکھ میں وہ بلا کی شراب تھی بد مست اک نگاہ میں مے خانہ ہو گیا بیگانگی میں شاد ہوں میں اس خیال سے تیرا وہی ہے سب سے جو بیگانہ ہو گیا بزم قدح کو دیکھ کے خود غرضیوں سے پاک نامیؔ شریک مسلک رندانہ ہو گیا

غزل · Ghazal

ye junun-e-ishq kaam aa hi gayaa

یہ جنون عشق کام آ ہی گیا ان کے دیوانوں میں نام آ ہی گیا آرزوئے پائمالی مژدہ باد وہ بت محشر خرام آ ہی گیا المدد شوق شہادت پھر کوئی لے کے تیغ بے نیام آ ہی گیا گو تہی تھا میں اسی پر شاد ہوں مجھ تک آخر دور جام آ ہی گیا لو اٹھے پردے حریم ناز کے لو وہ حکم قتل عام آ ہی گیا اٹھ گئی آخر نگاہ شرمگیں جذب دل اک روز کام آ ہی گیا چشم قاتل نے اشارہ کر دیا حسرتوں کا اختتام آ ہی گیا انتہائے رنج میں تیرا خیال بن کے راحت کا پیام آ ہی گیا ہو گئی مقبول رندوں کی دعا دیکھ لو گردش میں جام آ ہی گیا آرزؤں پر لگا دی بندشیں ہم کو دل کا انتظام آ ہی گیا بن گیا نامیؔ غبار راہ دوست کچھ دل مرحوم کام آ ہی گیا

غزل · Ghazal

bazm mein un ki jaanaa bhi

بزم میں ان کی جانا بھی ہوش میں واپس آنا بھی ایک نگاہ ناز میں ہے جینا بھی مر جانا بھی روداد منصور سنی سن میرا افسانا بھی عشق ہے بن بھی تارک دیں عقل سے ہو بیگانہ بھی دل سے سمجھنا بھی ہے کچھ کچھ ہے اسے سمجھانا بھی اف ساقی کی مست نگاہ جھوم گیا مے خانہ بھی بادۂ عشق سے ہیں رنگین مینا بھی پیمانہ بھی پوچھ نہ ہے کتنا پر کیف دھوکے میں دل کے آنا بھی یار کے نکلے دیوانے ناداں بھی سب دانا بھی راہ عشق ہے وہ جس کا کھو دینا ہے پانا بھی رسم وفا کا اٹھنا تھا نامیؔ کا مر جانا بھی

Similar Poets