Manzoor Imakni
na kuchh savaal kiyaa aur na kuchh gila mujh se
نہ کچھ سوال کیا اور نہ کچھ گلہ مجھ سے عجیب شخص تھا مل کر بچھڑ گیا مجھ سے تو اپنی ذات میں اک منزل وفا ہے مگر میں وہ چراغ کہ روشن ہے راستا مجھ سے کسی نے چھین لی بینائی میری آنکھوں کی کسی نے آئنہ منسوب کر دیا مجھ سے مزا تو جب ہے تری جستجو میں جان بہار مرے وجود کا ہو جائے سامنا مجھ سے بجھا دیا تو اندھیروں نے آ کے گھیر لیا جلا دیا تو الجھنے لگی ہوا مجھ سے وہ سب سے چھپ کے مرے گھر تو آ گیا لیکن سپردگی کا تقاضا نہ کر سکا مجھ سے جواب کچھ بھی دیا جائے غم نہیں منظرؔ سوال یہ ہے کہ پوچھے گا کیا خدا مجھ سے