SHAWORDS
Maqsood Aafaque

Maqsood Aafaque

Maqsood Aafaque

Maqsood Aafaque

poet
20Ghazal

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

لب پہ آیا ہی نہ تھا حرف تمنا کوئی اب کے کرتا بھی تو کیا کرتا مداوا کوئی زندگی تیرے تغیر کی طرف دھیان گیا جب ہواؤں میں اچھالا گیا سکہ کوئی چارہ گر کوئی نہ ہمدرد نہ مخلص نہ رفیق شہر بے مہر میں کس واسطے آیا کوئی گردش وقت کو سمجھائے بھلا کون یہ بات روز چوکھٹ پہ تکے ہے مرا رستہ کوئی آئنے خود چلے آتے ہیں مقابل میرے شان میں پڑھتا ہے جب میرے قصیدہ کوئی دولت عجز نئی رت میں نہ ڈھونڈو کہ یہاں یا تو بنتا ہے یا کرتا ہے تماشا کوئی اب کے آفاقؔ مری آنکھوں میں آنسو بھی نہ تھے گرم مٹی پہ تڑپتا رہا پیاسا کوئی

lab pe aayaa hi na thaa harf-e-tamannaa koi

1 views

غزل · Ghazal

چراغ خواب شکستہ کی لو ہے مدھم دیکھ کبھی تو آ مری تنہائیوں کا عالم دیکھ جواز ڈھونڈ رہی ہیں کئی نگاہیں یہاں یہ تیری مرضی ہے تو چاہے مجھ کو کم کم دیکھ ہمارے شہر میں سچائیاں مقید ہیں یقیں نہ آئے تو چل آئنوں کا ماتم دیکھ ابھی ٹھہر اے جنازہ پڑھانے والے شخص بدن کے ملبے کے نیچے دبے ہوئے غم دیکھ یہاں بھی مسئلہ بیعت کا ہی رہا ہوگا لہو میں ڈوبے ہوئے ہیں ہزاروں پرچم دیکھ یہاں کے لوگوں سے امید رکھ وفاؤں کی کہ مدتوں یہاں بدلے نہیں ہیں موسم دیکھ کبھی بھلا تو دیا تھا اسے مگر آفاقؔ پلک جھپکتے ہی کیوں آنکھ ہو گئی نم دیکھ

charaagh-e-khvaab-e-shikasta ki lau hai maddham dekh

غزل · Ghazal

غم حیات کو اپناؤ زندگی کر لو اب آنکھیں کھول دو اک پل کو روشنی کر لو غموں کے دور میں تم کو اگر ہے خوش رہنا تو مسکراؤ ذرا درد میں کمی کر لو اسی سہارے میں اک عمر کاٹ سکتا ہوں نظر سے چھو کے مرے خط کو سرمئی کر لو کسے خبر ہے کہ باقی ہے زندگی کب تک یہ مشورہ ہے کہ اب مجھ سے دوستی کر لو اک اجنبی سے سنے میں نے تذکرے اپنے اب اس سے اچھا ہے چرچا گلی گلی کر لو تم اپنی ذات کو محسوس کر نہ پاؤ گے تم اپنی ذات سے مجھ کو اگر نفی کر لو بھٹک رہے ہو اداسی کے دشت میں آفاقؔ تمہیں یہ کس نے کہا تھا کہ عاشقی کر لو

gham-e-hayaat ko apnaao zindagi kar lo

غزل · Ghazal

تپتے صحرا میں کہیں کوئی شجر آتا ہے درد پر ترک سکونت کا اثر آتا ہے صدمۂ ہجر سے محفوظ رکھوں گا تجھ کو مجھ کو قسطوں میں بچھڑنے کا ہنر آتا ہے دن گزر جاتا ہے تعبیر کی حسرت لے کر رات ہوتی ہے تو پھر خواب اتر آتا ہے جب سے جانے ہیں محبت کے فوائد ہم نے ایک ہی شخص کئی بار نظر آتا ہے درد فرقت میں تری آنکھیں فقط گیلی ہوئیں میری آنکھوں میں میاں لال کلر آتا ہے ہجر کی شب مرے پہلو میں رہا تیری طرح وہ ستارہ جو بہت دور نظر آتا ہے کوئی آوارگیٔ شہر سے بچ ہی نہ سکا اب پرندہ بھی کہاں شام کو گھر آتا ہے مجھ کو چمکا گئی آفاقؔ بڑوں کی صحبت جیسے قطرے پہ سمندر کا اثر آتا ہے

tapte sahraa mein kahin koi shajar aataa hai

غزل · Ghazal

ہر قدم ایک قیامت جہاں باور آئے تیرے پیچھے تو کوئی سوچ سمجھ کر آئے میرے شوکیس کی تقدیر سنور سکتی ہے کیا یہ کم ہے کہ مرے گھر ترا پتھر آئے میں جنہیں مل نہ سکا وہ تو منافق ہوں گے جن کو آنا تھا مرے دل میں برابر آئے ہو سکے تو بہا دو اشک ندامت والے عین ممکن ہے کہ وہ شخص پلٹ کر آئے عالم وجد میں آنے تو دے اک بار مجھے ایک تو کیا تری تصویر بھی چل کر آئے اگلا موسم ہو تباہی کا یہ ممکن ہے میاں ایک مدت ہوئی بستی میں قلندر آئے ہو گیا آج عیاں تیرے تصور کا طلسم دل کی دہلیز پہ الفاظ کے لشکر آئے کوئی آفاقؔ محبت کی حمایت میں نہیں جانے کتنے ہی نشان اس کے بدن پر آئے

har qadam ek qayaamat jahaan baavar aae

غزل · Ghazal

اپنی جانب ترے دل کے سبھی غم کھینچتے ہیں تیرے اپنے تو بڑھا دیتے ہیں ہم کھینچتے ہیں ہائے اے زندگی اب تیری مسافت کے عذاب بیٹھ جاتے ہیں کسی سائے میں دم کھینچتے ہیں وحشت ظلمت و تنہائی کے لشکر ہیں ادھر جس طرف مجھ کو ترے رحم و کرم کھینچتے ہیں صفحۂ ہستیٔ فانی پہ بہ ہر صورت شوق جو لکیریں نظر آتی ہیں وہ ہم کھینچتے ہیں مے سے توبہ بھی ہے لازم تری تقلید بھی فرض کیا کروں اب جو ترے نقش قدم کھینچتے ہیں ہم جنوں زاد ہیں جذبات کے قائل آفاقؔ کب ترے ہجر میں زنجیر الم کھینچتے ہیں

apni jaanib tire dil ke sabhi gham khinchte hain

Similar Poets