SHAWORDS
Maqsood Nashtari

Maqsood Nashtari

Maqsood Nashtari

Maqsood Nashtari

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

yuun to har ek ne ki rasm adaa mere baad

یوں تو ہر ایک نے کی رسم ادا میرے بعد کر نہ پایا کوئی تکمیل وفا میرے بعد میں نے انجام دئے کار نمایاں جو بھی با وفا کوئی بھی وہ کر نہ سکا میرے بعد کون سمجھے گا تقدس جو ہے بحر غم کا زندگی کو کوئی ساحل نہ ملا میرے بعد سجدۂ شکر بہ ہر گام ادا کرتا ہوں کون سمجھے گا یہ تسلیم و رضا میرے بعد صاف گوئی کا ہر اک کرتا ہے دعویٰ لیکن کس نے محفل میں یہ اظہار کیا میرے بعد انقلاب آیا زمانے میں تو کس کے دم سے کس کا لہجہ اثر انداز ہوا میرے بعد خیر مقدم کے لئے خود بڑھی منزل میری دور تک پھر نہ چلا اس کا پتا میرے بعد بزم دنیا تو ہے مقصودؔ سرائے فانی کیا خبر کون ہو پھر جلوہ نما میرے بعد

غزل · Ghazal

khauf us kaa usi se Dartaa huun

خوف اس کا اسی سے ڈرتا ہوں میں کہاں آدمی سے ڈرتا ہوں تیرگی اب مرا مقدر ہے اس لئے روشنی سے ڈرتا ہوں موت برحق ہے آئے گی لیکن تیری چارہ گری سے ڈرتا ہوں جس کا احسان بوجھ بن جائے بس اسی آدمی سے ڈرتا ہوں آخرت کا نہیں خیال ذرا دل کی اس گم رہی سے ڈرتا ہوں جس سے آئے عمل میں کوتاہی میں اسی آگہی سے ڈرتا ہوں یوں ملے مجھ کو دوستی میں فریب آج تک دوستی سے ڈرتا ہوں میں بھی مقصودؔ دور حاضر میں موت یا زندگی سے ڈرتا ہوں

غزل · Ghazal

haail hain miri raah mein ye dair-o-haram kyon

حائل ہیں مری راہ میں یہ دیر و حرم کیوں بڑھتا ہوں تو ہر گام پہ رکتے ہیں قدم کیوں جو حق کی حمایت میں نکل آتا ہے گھر سے اس مرد مجاہد کو ہو اندیشۂ غم کیوں یہ رہبر منزل ہیں نشاں ان سے ملے گا راہوں سے مٹاتے ہو مرے نقش قدم کیوں محفل کی نگاہیں تو ہیں مرکوز انہیں پر خاموش نظر آتے ہیں آذر کے صنم کیوں میں نے انہیں اپنا کہا اپنا ہی تو سمجھا وہ چاہتے ہیں کرنا مرے سر کو قلم کیوں جو بات بھی حق ہوگی وہی بات کہیں گے منصف سے کریں ہم کوئی امید کرم کیوں صد شکر کہ تو نے مجھے انسان بنایا غم ہی مری قسمت ہے تو یہ بھی مجھے کم کیوں قدرت نے تمہیں عیش و مسرت سے نوازا مقصودؔ نظر آتے ہو بادیدۂ نم کیوں

غزل · Ghazal

rah-e-hayaat pe yuun bach ke chal rahaa huun main

رہ حیات پہ یوں بچ کے چل رہا ہوں میں کہ کھائے ٹھوکریں کوئی سنبھل رہا ہوں میں تفکرات کے ایندھن میں جل رہا ہوں میں بہ شکل برف اسی سے پگھل رہا ہوں میں برائے روشنی سورج بکھیر دے کرنیں زمیں پہ تیری تمازت سے جل رہا ہوں میں نہ زاد راہ نہ منزل کا ہے پتہ مجھ کو سفر طویل ہے گھر سے نکل رہا ہوں میں ہر ایک دور نے بڑھ کر مجھے سلام کیا کھرا ہوں قیمتی سکہ ہوں چل رہا ہوں میں بلا سے منزلیں مجھ کو ملیں ملیں نہ ملیں کسی کے نقش قدم پر تو چل رہا ہوں میں دیا ہے درس جنہیں میں نے درد مندی کا انہیں کی نظروں میں مقصودؔ کھل رہا ہوں میں

غزل · Ghazal

jaise tazaad hotaa hai lail-o-nahaar mein

جیسے تضاد ہوتا ہے لیل و نہار میں ویسا ہی فرق ہوتا ہے قول و قرار میں تم ہی بتاؤ کیا ہے مرے اختیار میں میں اس بساط دہر پہ ہوں کسی شمار میں کیا جانے کیا کشش ہے یہ مشت غبار میں جکڑے ہوئے سبھی ہیں غم روزگار میں تڑپا ہے خوب ماہیٔ بے آب کی طرح اب بھی دل حزیں ہیں ترے انتظار میں محسوس کر رہے ہیں مگر بولتے نہیں تبدیلیاں جو آئی ہیں کردار یار میں یہ انقلاب دیکھا ہے دور جدید کا غدار خود کو گنتے ہیں اب جاں نثار میں مقصودؔ وہ بھی بہر ملاقات آئیں گے پتھرا گئی ہیں آنکھیں اسی انتظار میں

غزل · Ghazal

naa-ahl se bhule se daanaai na li jaae

نا اہل سے بھولے سے دانائی نہ لی جائے دریا سے سمندر کی گہرائی نہ لی جائے ہر پل ہو ثنا خوانی اس رب حقیقت کی اس عالم عرفاں سے تنہائی نہ لی جائے جس بزم میں ملتا ہو انصاف جہانگیری اس بزم سے پھر کیسے اچھائی نہ لی جائے جو گلشن ہستی کو شاداب نہ کر پائے پروائی ہو وہ پھر بھی پروائی نہ لی جائے تزئین تخیل تو ہے لازمی فن کارو اوروں سے کسی صورت گویائی نہ لی جائے جو خسرو ہستی ہیں اکثر یہی کہتے ہیں صدقے میں کسی سے بھی دارائی نہ لی جائے آئین زباں بندی کیا اس لئے نافذ ہے بیدار نہ ہو پائیں انگڑائی نہ لی جائے ہاں صبر و قناعت کا مقصودؔ یہ مطلب ہے قرضے کی کوئی شے بھی اے بھائی نہ لی جائے

Similar Poets