SHAWORDS
Maratib Akhtar

Maratib Akhtar

Maratib Akhtar

Maratib Akhtar

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

میں وہ دریا ہوں چڑھا ہو جو اترنے کے لئے جی رہا ہوں میں یہاں ہم زاد مرنے کے لئے چائے خانے کی نشستوں پر جریدوں کے ورق پیڑ سے پتے جھڑے اڑنے بکھرنے کے لئے ایک میں مد مقابل وسعت آفاق میں اور ساری طاقتیں گمراہ کرنے کے لئے حافظہ ویران ہونے کے لئے آباد تھا نام کچھ ہونٹوں پہ آئے تھے بسرنے کے لئے کارخانوں کو چلے انبوہ در انبوہ لوگ جانور نکلے چراگاہوں میں چرنے کے لئے روشنی میں خوف کا احساس تک ہوتا نہیں کر دیا ہے آف ٹیبل لیمپ ڈرنے کے لئے

main vo dariyaa huun chaDhaa ho jo utarne ke liye

غزل · Ghazal

چاروں طرف ہے خون کا دریا چڑھا ہوا کشمیر سر زمین مقدس روڈیشیا چائے کی پیالیوں سے اٹھے گی نئی مہک بے برگ ٹہنیوں پہ نیا رنگ آئے گا جینے کی اک امنگ جو کل تھی سو اب بھی ہے مرنے کا وقت آج بھی ہے کل بھی آئے گا پتو مجھے لپیٹ لو اپنی رداؤں میں میں وہ درخت ہوں جسے کچھ بھی نہیں ملا شیشوں کی طرح ٹوٹ گئیں سب حقیقتیں پتھر پگھل کے بہنے لگا انجماد کا

chaaron taraf hai khuun kaa dariyaa chaDhaa huaa

غزل · Ghazal

سرزد ہوئی تھی ایک خطا کھیل کھیل میں پھر میں اسیر ہو گیا پیکر کے جیل میں اب لوٹ کر بدل گئی رت پھول کھل گئے دیوار پر لٹکتی ہوئی زرد بیل میں کتنے سمے فراق کے دہرا گئے مجھے کتنی رتیں بکھر گئیں دو پل کے میل میں شعلوں کا رقص تجھ کو نہیں تھا اگر پسند یہ آگ کیوں لگائی تھی مٹی کے تیل میں

sarzad hui thi ek khataa khel khel mein

غزل · Ghazal

سارے منظر خاک ہوتے جا رہے ہیں دوستو ہم نے جو پایا ہے کھوتے جا رہے ہیں دوستو آؤ پیدل ہی سفر کے سلسلوں کو روند دیں بیٹھے بیٹھے بانجھ ہوتے جا رہے ہیں دوستو سانس کی ڈوری میں اجڑے موسموں کی سیپیاں اک تسلسل سے پروتے جا رہے ہیں دوستو تیرتی مڑ مڑ کے تکتی کشتیوں کے بادباں رفتہ رفتہ دور ہوتے جا رہے ہیں دوستو نا سمجھ اس سر زمین پر آنے والوں کے لیے نت نئے بحران بوتے جا رہے ہیں دوستو یہ گھنی چھاؤں پڑاؤ تھی نئے آغاز کا اس گھنی چھاؤں میں سوتے جا رہے ہیں دوستو

saare manzar khaak hote jaa rahe hain dosto

غزل · Ghazal

یہ گھر کے بھید ہیں کہوں کیسے زبان سے کیا دکھ ملے ہیں مجھ کو میرے بھائی جان سے کیفے کے ایک کونے میں مصروف گفتگو مغموم بے حیات بدن بے زبان سے یہ دن جو آج بیت گیا پھر نہ آئے گا یہ تیر بھی نکل گیا قوس کمان سے اچھے بشر ہیں جن کو نہیں ڈھونڈنے کی دھن اچھا خدا ہے دور ہے وابستگان سے الٹے کنوئیں کے قطر میں لٹکا دیئے گئے اترے تھے دو فرشتے کبھی آسمان سے

ye ghar ke bhed hain kahun kaise zabaan se

غزل · Ghazal

بلندیوں سے وہ بے داغ نور ابھر آئے ہزار رنگ تہی وسعتوں میں بھر آئے کھلے نگاہ کی شاخوں پہ انتظار کے پھول ہوا میں اڑتے ہوئے بادباں نظر آئے لبوں سے بچھڑے ہوئے قہقہے تری مانند رتیں گزر گئیں لیکن نہ لوٹ کر آئے بجھی بجھی ہوئی آنکھیں بھنور بھنور چہرے جب آفتاب کی لو بجھ رہی تھی گھر آئے بلند و پست پہاڑوں کے سلسلوں کی طرح ہم اپنے آپ کو بھی منتشر نظر آئے ندی نشیب نما الجھنوں میں ڈوب گئی نہاں سکوت تہہ آب سے ابھر آئے

bulandiyon se vo be-daagh nuur ubhar aae

Similar Poets