SHAWORDS
Marghoob Asar Fatmi

Marghoob Asar Fatmi

Marghoob Asar Fatmi

Marghoob Asar Fatmi

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

bas ek baar uThein saamnaa hi kar Daalein

بس ایک بار اٹھیں سامنا ہی کر ڈالیں وبال جان ہے ڈر خاتمہ ہی کر ڈالیں قبولیت کو سنا ہے کہ ضد دعا سے ہے تو کیوں نہ ایسا کریں بد دعا ہی کر ڈالیں کھسکتے لمحوں سے یہ زندگی نے پوچھ لیا حقیر ہم ہیں کہ تم فیصلہ ہی کر ڈالیں نشاط و کیف کے سامان عن قریب کہاں اب اختصار صف مدعا ہی کر ڈالیں ارادہ کر جو لیا ترک خود کلامی کا تو یاد ماضی کا غم مکتبہ ہی کر ڈالیں اثرؔ زبان کو دشواریاں بھی ہیں لاحق سو اہتمام کوئی دوسرا ہی کر ڈالیں

غزل · Ghazal

mazhab-e-ishq ke irfaan pe hairaan niklaa

مذہب عشق کے عرفان پہ حیراں نکلا قیس جب دشت کو نکلا تو پریشاں نکلا شدت شوق میں سرمست و شاداں نکلا غم رسیدہ بھی اگر تھا تو غزل خواں نکلا ان سے ملنے کی تمنا لیے ڈرتا ہی رہا دل یہ کافر مرا در پردہ مسلماں نکلا شام آئی تو لب لعلیں کی شوخی لے کر مہر بکھراتے ہوئے لعل بدخشاں نکلا جب کہ پرواز تخیل نے بھی صورت پالی کتنا بے معنی سا اب تخت سلیماں نکلا جانے کب چپکے سے آنکھوں نے در دل کھولا آیا اک بار تو پھر گھر سے نہ مہماں نکلا خواب ہی اچھے تھے ٹوٹے تو ہوا یہ افشا جس کو گلزار سمجھتے تھے بیاباں نکلا قیدئ حسن کی سرکار میں پیشی جو ہوئی عشق سرشار تھا دیدار کا عنواں نکلا دائرے فکر کے محدود ہوں ممکن ہی نہیں کب اثرؔ معترف تنگئ داماں نکلا

غزل · Ghazal

hai jitnaa zarf miraa itnaa hi sila denaa

ہے جتنا ظرف مرا اتنا ہی صلہ دینا نہ اور کچھ تو امیدوں کا سلسلہ دینا مری تو عرض تمنا ہے قدرے پیچیدہ جواب دینا ہو مشکل تو مسکرا دینا کسی غریب کی دل جوئی بھی عبادت ہے ہے نیک کام کسی روتے کو ہنسا دینا کچھ اس قدر ہوئی کمزور ڈور رشتوں کی ہے ایک معجزہ ٹوٹے سرے ملا دینا تمہارا فرض ہے حالات حاضرہ پہ اثرؔ غزل کے شعروں میں اک تبصرہ سنا دینا

غزل · Ghazal

vafaa ki shama jalaao ki ham ghazal kah lein

وفا کی شمع جلاؤ کہ ہم غزل کہہ لیں اداس رات ہے آؤ کہ ہم غزل کہہ لیں کسی کے ساتھ گزارے ہوئے حسیں لمحو تم آج یاد تو آؤ کہ ہم غزل کہہ لیں بکھیرے جاؤ فضاؤں میں آج تم نغمے سناؤ گیت سناؤ کہ ہم غزل کہہ لیں تمہارے حسن کا چرچا ہے چاند تاروں میں کبھی زمین پہ آؤ کہ ہم غزل کہہ لیں کسی کی یاد کی مشعل جلا جلا کے اثرؔ اندھیرا غم کا مٹاؤ کہ ہم غزل کہہ لیں

غزل · Ghazal

darmiyaan aa rahi hai nafrat kyuun

درمیاں آ رہی ہے نفرت کیوں جب گلے مل گئے شکایت کیوں آدمی تم بھی آدمی ہم بھی پھر ہوئی ختم آدمیت کیوں ہو گیا عشق آپ کو شاید عمر اس میں نئی مصیبت کیوں کون رکھ پایا مال و دولت کو جانے والے سے یہ محبت کیوں تھک گیا ہے مرا ستم گر کیا سانس لے لینے کی اجازت کیوں سب کی مائیں بھی بیٹیاں ہی تھیں آج بیٹی بنی مصیبت کیوں آپ کا شعر بولتا ہے اثرؔ خود ستائی کی پھر ضرورت کیوں

غزل · Ghazal

kheton ke beach phuul ke bistar ke aas-paas

کھیتوں کے بیچ پھول کے بستر کے آس پاس موسم تو آ کے بیٹھ مرے گھر کے آس پاس بے قید و بند کوندتی رنگین مچھلیاں دیکھی ہیں میں نے گاؤں کے پوکھر کے آس پاس یہ کیا ہوا کہ آج بہت تیز دھوپ ہے سایہ ملا نہ شاخ تناور کے آس پاس سرسوں کے کشت زار میں ایسا لگا کہ ہوں فطرت کی چھینٹ دار سی چادر کے آس پاس مجھ کو نہ سطح آب پہ کچھ بھی ملا اثرؔ غوطہ لگا کے پہنچا ہوں گوہر کے آس پاس

Similar Poets