Maroof Chaudhary
zamin pe bojh banaa main bhi zindagi ki tarah
زمیں پہ بوجھ بنا میں بھی زندگی کی طرح خود اپنے شہر میں پھرتا ہوں اجنبی کی طرح جھلستی دھوپ میں ہر سمت بھاگتے سائے نہ جانے بیٹھیں گے کب مل کے آدمی کی طرح مرے چمن کا عجب حال ہے کہ برسوں سے صبا گلوں سے بھی ملتی ہے اجنبی کی طرح میں اٹھ تو جاؤں مگر تیری رہگزر اے دوست اجڑ نہ جائے کہیں میری زندگی کی طرح یہ آرزو ہے رفیقو کہ ان حوادث سے تمہارے دل میں پڑے درد آگہی کی طرح