
Maryam Naz
Maryam Naz
Maryam Naz
Ghazalغزل
na puure hue baa-khudaa bechte hain
نہ پورے ہوئے با خدا بیچتے ہیں یوں خواب و خیالوں کو جا بیچتے ہیں نہیں کوئی مخلص زمانے میں ورنہ عطا بیچتے تھے ردا بیچتے ہیں طبیبوں کی ساری ہے اپنی کہانی وفا بیچتے ہیں شفا بیچتے ہیں چلو تم بھی ہم سے یہ وعدہ کرو اب قسم کھا کے ساری انا بیچتے ہیں یہ اہل زمانہ کہاں جانتے ہیں دلوں میں سلگتی صدا بیچتے ہیں ہوئے ہیں وہ ہم سے پرائے کہ ایسے لگا کے گرا پھر قبا بیچتے ہیں ستم پہ ستم وہ کئے جا رہے ہیں لگا کے وہ زخم اب دوا بیچتے ہیں نہیں ہوتی ان سے کوئی بات بھی تو یہ آنکھوں کے اندھے دعا بیچتے ہیں بھرے مال و دولت سے کمرے ہیں خالی ہوس کے پجاری کلا بیچتے ہیں مکمل ہو تیرا فنون سفر یہ ہاں ساغر سے کہہ دو دعا بیچتے ہیں جو دیکھا اندھیرا تو راہوں میں مریمؔ اماوس کی شب میں ضیا بیچتے ہیں
haasil-e-fan hai bas kalaam ki daad
حاصل فن ہے بس کلام کی داد ورنہ ملتی ہے سب کو نام کی داد کس قدر بے رخی سے ملتا ہے دشمن جاں ترے سلام کی داد جرم غربت پہ جا کے لگتا ہے ویسے بنتی ہے اس نظام کی داد خوب صورت ہے کائنات بہت خالق حسن انتظام کی داد عشق ملتا ہے ہجر کے ہی عوض اے دکاں دار تیرے دام کی داد میکدے سے نکلتے ملتی ہے ہوش والوں کو میرے جام کی داد آپ نے نقص تو نکالا نہیں آپ کی داد کب ہے کام کی داد سہتی رہتی ہوں وحشتیں مریمؔ صبح ملتی ہے مجھ کو شام کی داد
dekhe hain manaazir jo idhar shaam se pahle
دیکھے ہیں مناظر جو ادھر شام سے پہلے دن ڈھلتے بدلتی ہے نظر شام سے پہلے اترے ہیں یہاں دشت میں جو قافلے اکثر کتنے ہیں چلے پار خضر شام سے پہلے تابندہ بہاروں کے نئے رنگ لیے تو میری بھی کبھی چھت پہ اتر شام سے پہلے اس درد و ستم کا نہیں غم مجھ کو صنم تو ہے آس ہو یہ ختم سفر شام سے پہلے افلاس سے بڑھ کر نہیں ہوتا کوئی بھی دکھ اس غم میں گرے ٹوٹ کہ در شام سے پہلے جو چھوڑ کے جاتے ہیں یہاں بیچ بھنور میں کھلتے ہیں نہیں ان پہ یہ در شام سے پہلے بھٹکے ہوؤں کی راہیں تو اکثر ہیں ہوئی غم کب ملتے انہیں اپنے ہی گھر شام سے پہلے ٹوٹی ہوئی اب شاخوں کو یہ دیکھ کہ مریمؔ ہاں پھوٹ کے روتے ہیں شجر شام سے پہلے
taabinda bahaaron ke nazaare nahin dekhe
تابندہ بہاروں کے نظارے نہیں دیکھے تو نے وہ چمکتے ہوئے تارے نہیں دیکھے کچھ اس لیے بھی نیند ہمیں آتی ہے جلدی آنکھوں نے ابھی خواب تمہارے نہیں دیکھے خود ہاتھ ملایا ہے سمندر میں بھنور سے کشتی نے تلاطم میں سہارے نہیں دیکھے ممکن ہے کسی طور کوئی چارہ بھی ہوتا تو نے ہی کبھی زخم ہمارے نہیں دیکھے کیا کیا نہ ستم مجھ پہ کیا رات نے آ کر دن کیسے مری جان گزارے نہیں دیکھے کیا دیکھ رہے ہو یہ محبت کے کرم ہیں تم نے کبھی تقدیر کے مارے نہیں دیکھے
khvaab jaisi hi koi apni kahaani hoti
خواب جیسی ہی کوئی اپنی کہانی ہوتی یوں تو برباد نہ یہ اپنی جوانی ہوتی تیرے آنے سے چہک اٹھتا یہ ویرانۂ دل پھر سے آباد وہی روش پرانی ہوتی رابطہ رکھا نہ دیا جائے سکونت کا پتہ اس طرح بھی ہے کوئی نقل مکانی ہوتی اب مرے پاس نہیں کوئی بھی رونے کا جواز ہجر موسم کی سہی اشک فشانی ہوتی یاد کرنے کا تجھے کوئی بہانہ بھی نہیں کوئی چھلا کوئی چوڑی ہی نشانی ہوتی اب ترے ہجر سے مانوس طبیعت ہے مری پہلے والی سی نہیں جاں پہ گرانی ہوتی نخل جاں پہ جو برستا تیرا بادل مریمؔ کچھ تو کم بدن کی یہ تشنہ دہانی ہوتی
dast-e-daaman du'aa rahe na rahe
دست دامن دعا رہے نہ رہے ہم چلے اب وفا رہے نہ رہے میں فنا کی ڈگر پہ ہوں یارو اب کسی کی سزا رہے نہ رہے آئنے تم تو میرے ساتھ رہو مجھ میں چاہے ادا رہے نہ رہے جلنا قسمت میں ہے تو جلنا ہے چھت پہ کوئی گھٹا رہے نہ رہے پاؤں ننگے ہیں ہر تمنا کے سر پہ اب کے ردا رہے نہ رہے ہو گئی جو خطا تو اب کے برس مجھ میں کوئی خطا رہے نہ رہے جل گئی باغ کی امیدیں بھی اب گلوں میں فضا رہے نہ رہے میرے زخموں کے دست دامن میں درد کی اب دوا رہے نہ رہے بجھ گئے دیپ سب وفاؤں کے صحن میں اب ہوا رہے نہ رہے فرق پڑتا ہے کیا بھلا مجھ کو اس کے دل میں دغا رہے نہ رہے المیے خوب ہم نے جھیلے ہیں ڈر نہیں المیہ رہے نہ رہے گریہ و غم کے آئینے میں ہیں عکس میں اب عزا رہے نہ رہے میرے پہلو سے آگ ہے لپٹی سر پہ باد صبا رہے نہ رہے لب کھلے ہیں تو کچھ سنو پل بھر کیوں کے پھر یہ گلا رہے نہ رہے اب نہ لوٹیں گے پھر کبھی مریمؔ میرے پیچھے صدا رہے نہ رہے





