SHAWORDS
Masood Bhopali

Masood Bhopali

Masood Bhopali

Masood Bhopali

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

sar-e-mahfil tamaashaa ho gayaa hai

سر محفل تماشا ہو گیا ہے دل بیتاب رسوا ہو گیا ہے نہ تھی کچھ آبرو آنکھوں میں جس کی وہ قطرہ آج دریا ہو گیا ہے لئے پھرتا تھا دامن میں قیامت تجھے دیوانے اب کیا ہو گیا ہے رخ تاباں کو تیرے جب بھی دیکھا نظر سے چاند میلا ہو گیا ہے جہاں سورج اگا کرتا تھا اکثر اسی گھر میں اندھیرا ہو گیا ہے کیا ہے جو ادا اس آستاں پر وہی مقبول سجدہ ہو گیا ہے شعاع فکر کی تابانیوں سے نظر میں حسن پیدا ہو گیا ہے یہاں مسعودؔ اک مدت سے اب تو خیال یار تنہا ہو گیا ہے

غزل · Ghazal

ye dard rahe dil mein ye zakhm-e-vafaa rakhnaa

یہ درد رہے دل میں یہ زخم وفا رکھنا اللہ محبت کی کھیتی کو ہرا رکھنا دستک بھی نہ دے کوئی اور گھر میں چلا آئے اس طرح نہ تم دل کا دروازہ کھلا رکھنا الجھے گی تو پھر گتھی سلجھائے نہ سلجھے گی جو بحث چھڑے اس کا قبضے میں سرا رکھنا کرتیں بھی ہوائیں کیا فطرت کے منافی تھا روشن کسی مفلس کی کٹیا میں دیا رکھنا میں زیست کے خاکے میں بھر دوں گا لہو سے رنگ تم پھول سے ہاتھوں پر تحریر حنا رکھنا جس نے صف باطل کی آنکھیں نہ چمکنے دیں سرمے کی جگہ اس کی خاک کف پا رکھنا مسعودؔ کے ہونٹوں پر شکوہ نہ ترا آئے جس حال میں بھی رکھنا راضی بہ رضا رکھنا

غزل · Ghazal

na ye manzar hai chaman kaa na ye ban ki khushbu

نہ یہ منظر ہے چمن کا نہ یہ بن کی خوشبو اف وہ خوشبو کا بدن اف وہ بدن کی خوشبو اس کی آواز میں چاندی کے گجر بجتے ہوئے اس کے لہجے میں گلابوں کے دہن کی خوشبو چین کیسے ہمیں آئے گا وہ جنت ہی سہی اڑ کے پہنچے گی جہاں خاک وطن کی خوشبو کم جنوں خیز نہ تھی اپنی جگہ موج بہار تجھے پایا تو ہوئی اور بھی سنکی خوشبو کوچہ در کوچہ یہ آوارہ خرامی کیا ہے بیٹھ صحبت میں کسی نیک چلن کی خوشبو ہر طرف رنگ پہ کاغذ کے گلابوں کی بہار ہر طرف رقص میں پیراہن فن کی خوشبو مار ڈالے گا شب غم کا یہ جوبن اللہ چاندنی سے مجھے آتی ہے کفن کی خوشبو کیوں اڑے پھرتے ہو وعدے کی ہوا میں مسعودؔ ملنے والی نہیں اس عہد شکن کی خوشبو

غزل · Ghazal

bayaan apni safaai kar rahaa hai

بیاں اپنی صفائی کر رہا ہے وہ لفظوں سے لڑائی کر رہا ہے کروڑوں بت اگر ہیں بھی تو بت ہیں خدا تنہا خدائی کر رہا ہے بجھے گی اپنے گھر کی آگ کیسے دھواں پردہ کشائی کر رہا ہے خبر ماں باپ کی پردیس میں کیا مگر بیٹا کمائی کر رہا ہے وہ جس کو ہم نبھائے جا رہے ہیں مسلسل بے وفائی کر رہا ہے حسد مجھ کو نہیں تو کس کو ہوگا ترقی میرا بھائی کر رہا ہے یہی مسعودؔ ہے کیا شاعر غم یہ جو نغمہ سرائی کر رہا ہے

غزل · Ghazal

ye buri hai janaab ki aadat

یہ بری ہے جناب کی عادت چھوڑ دیجے شراب کی عادت برق کا کام پھونکنا گلشن مسکرانا گلاب کی عادت ہم نہیں تھے تو کس نے ڈالی ہے یہ سوال و جواب کی عادت لوگ سب جانتے ہیں دنیا میں دل خانہ خراب کی عادت چند لوگوں میں ہم نے دیکھی ہے جاگنے میں بھی خواب کی عادت رات کی دھن اندھیرا پھیلانا روشنی آفتاب کی عادت دل مسعودؔ کی طرح یارو ٹوٹ جانا حباب کی عادت

Similar Poets