
Masood Hassas
Masood Hassas
Masood Hassas
Ghazalغزل
khizaan kaa dast sadaa fasl-e-nau-bahaar pe thaa
خزاں کا دست سدا فصل نو بہار پہ تھا گلا ضمیر کا خنجر کی تیز دھار پہ تھا ہوا کے سر پہ ہی الزام بارہا کیونکر مرا چراغ ہی خود بجھنے کی کگار پہ تھا گزشتہ شام بہت تھا سرور ہست و نیست خمار اور بھی اک صاحب خمار پہ تھا یہ اور بات کہ بینائی تھک گئی ورنہ نوشتہ جو بھی تھا سب سامنے جدار پہ تھا اگرچہ دہر نے بخشا تھا اس کو قفل دہن وہ ایک شخص تھا بھاری مگر ہزار پہ تھا زمیں پہ دور گرا جا کے اک دھماکے سے وہ اک سفید کبوتر کہ جو منار پہ تھا قلم کو دے گیا حساسؔ خاص پیرایہ جو وقت آن پڑا داخلی حصار پہ تھا
regzaar-o-murgh-zaar-o-bahr-o-bar aur dasht-dasht
ریگزار و مرغزار و بحر و بر اور دشت دشت دل کو ڈھونڈھا میں نے اپنے زیر سایہ رخت رخت کچھ دنوں سے امتحان سوز دل موقوف ہے کچھ دنوں سے جان کے بھی حوصلے ہیں پست پست کچھ دنوں سے سرد آہوں کا ہجوم بے کراں کچھ دنوں سے خواہشوں کی انجمن بھی ہفت ہفت کچھ دنوں سے ہم پہ آمد برق بے پایاں کی ہے کچھ دنوں سے دل بھی آمادہ برائے رفت رفت آخرش اس زندگی کو میں جیوں تو کیوں جیوں کر دیا ہے زندگی نے دل کو میرے لخت لخت جھونپڑے نے نیند میٹھی بخش دی سوغات میں راس آتے ہی نہیں دل کو ہمارے تخت وخت اے رقیب رو سیہ حساسؔ کو پیارا ہے تو لب سے تیرے طنز بھی لگتے ہیں اس کو مست مست
ek kashti-kaaghzi par ghaur-o-khauz
ایک کشتی کاغذی پر غور و خوض ہوگا میری سادگی پر غور و خوض آدمیت کا نشاں مٹتا گیا ہو رہا ہے آدمی پر غور و خوض جو مخالف تھے مرے کرتے ہیں وہ آج میری شاعری پر غور و خوض مفلسوں سے کوئی ہمدردی نہیں کس لئے ہے مفلسی پر غور و خوض کون بہتر ہے یہ عنواں چھوڑ کر کاش ہوتا بہتری پر غور و خوض آئیے کرتے ہیں بے جنگ و جدل باہمی رسہ کشی پر غور و خوض بے بسوں کا ذہن تک ماؤف تھا کون کرتا بے بسی پر غور و خوض
ghazlon ki kaaenaat kaa badlaa huaa hai Dhang
غزلوں کی کائنات کا بدلا ہوا ہے ڈھنگ اللہ جانے کس گھڑی بیدار ہو ملنگ میں بھی مرا رقیب بھی دونوں ہیں زخم زخم دونوں لہولہان ہیں یہ ہے انا کا رنگ سر کاٹتا نہ آپ کا کرتا میں کیا بھلا اس بار لڑ رہا تھا میں اپنی بقا کی جنگ مفلس نے گر امیر کو چانٹا جڑا تو کیا آتش فشاں بھی پلتا ہے غربت کے سنگ سنگ کب تک بھلا یوں جھوٹ کی رسی بٹیں گے آپ کب تک بھلا یوں پیش کریں گے بھی عذر لنگ اس واسطے وہ آنکھوں میں حلقہ بگوش ہیں دل کے قریب جاتی ہے آنکھوں سے اک سرنگ سجدہ میں والدہ کے یہ حساسؔ تھا اثر دست دعا نے جیت لی دست قضا سے جنگ
hamaari fikr bhi khasta hamaare kaar ghalat
ہماری فکر بھی خستہ ہمارے کار غلط ہماری جست نے بخشا ہمیں حصار غلط کہیں یہ قلب حوادث کی تاب لا نہ سکے کہیں یہ دل ہی نہ لے لے کوئی قرار غلط یہ میرا دل ہے تمنائیں پال لیتا ہے ہوا ہے اس پہ بھی سایہ کوئی سوار غلط مجھے یقیں ہے نہ آئیں گے میری تربت پر برائے فاتحہ چنیے گا کب مزار غلط یہ کس نے ابروئے خم دار سے مجھے دیکھا کہاں سے آ گئی حق میں مرے بہار غلط مرے نصیب کے قوسین نے دیا تحفہ کبھی تو لیل مسلسل کبھی نہار غلط میں اپنی اوج کا تم کو حساب کیا دیتا مری لکیر تھی الجھی مرا مدار غلط میں اپنے زخم جگر سوز و ساز کیوں لکھوں ہزار بار گنا پھر بھی ہے شمار غلط
miri balaa se aane do harif kyaa kharif kyaa
مری بلا سے آنے دو حریف کیا خریف کیا قضا نہیں کوئی مری عدیل کیا ثقیف کیا حروف کے حصار سے فقط نہیں غزل کا دم جو فکر ہی نہیں رہی بحور کیا ردیف کیا ہوائیں ایسی تند تھیں کہ زاد رہ بچا نہیں سبھی اجڑ پجڑ گئے جسیم کیا نحیف کیا ہے امر واقعی یہی کہ مال و زر کی ہوڑ میں سبھی ہوئے ہیں ایک سے خبیث کیا شریف کیا مرا ضمیر آئنہ پڑھو اسے بھی غور سے دلی کتاب رخ پہ ہے مہیب کیا ظریف کیا ہوا کی خاصیت ہے یہ چراغ وہ بجھائے گی ہوا تو بس ہوا ہی ہے نسیم کیا کثیف کیا نبھائے جا تو زندگی بھلے یہ بوجھ ہی سہی اٹھا لیا ہے سر پہ گر ثقیل کیا خفیف کیا





