SHAWORDS
Masoom Ansari

Masoom Ansari

Masoom Ansari

Masoom Ansari

poet
15Ghazal

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

بوئے گل چاہتے ہیں رقص صبا چاہتے ہیں بند کمروں کے مکیں تازہ ہوا چاہتے ہیں مفلسی ہوش اڑا دیتی ہے انسانوں کے یہ نشہ کم ہو تو دولت کا نشہ چاہتے ہیں کب کہا ہم نے کسی زہرہ جبیں کی ہے تلاش جو ہمیں ڈھونڈ سکے اس کا پتا چاہتے ہیں یہ بھی منظور نہیں چاند کے باشندوں کو ہم گھنی رات میں مٹی کا دیا چاہتے ہیں ہم سے ناراض ہیں سورج کی شعاعیں تو رہیں ہم تو بس روشنیٔ غار حرا چاہتے ہیں سب کو ملتا ہے یہ انداز فقیرانہ کہاں ہم پریشاں ہیں مگر سب کا بھلا چاہتے ہیں جن کا سر دیکھ کے کاسے کا گماں ہو معصومؔ وہ بھی اس دور میں دستار انا چاہتے ہیں

bu-e-gul chaahte hain raqs-e-sabaa chaahte hain

غزل · Ghazal

میں بھی کیا کرتا کہ اس کو بے وفا ہونا ہی تھا زندگی کو ایک دن مجھ سے جدا ہونا ہی تھا ہر دعا کو میرے حق میں بد دعا ہونا ہی تھا اب کسی سے کیا گلہ جو کچھ ہوا ہونا ہی تھا اپنے بے تعبیر خوابوں کی جلن کس سے کہوں اس گلابی شہر کو آتش کدہ ہونا ہی تھا پھر بھی پانی کی مجھے قیمت ادا کرنی پڑی میرے لب پر تشنگی کا ذائقہ ہونا ہی تھا موت کے بے رحم ہاتھوں کو بہانے کی تلاش زندگی کے ساتھ کوئی حادثہ ہونا ہی تھا میں بہت حساس ہوں اس میں کسی کا کیا قصور آئنہ بن کر مجھے سنگ آشنا ہونا ہی تھا میں نے اپنے سارے ناخن کاٹ ڈالے تھے مگر زخم کو معصومؔ دوبارہ ہرا ہونا ہی تھا

main bhi kyaa kartaa ki is ko bevafaa honaa hi thaa

غزل · Ghazal

سامنے بیٹھ کے کچھ بات بھی ہو سکتی ہے آپ چاہیں تو ملاقات بھی ہو سکتی ہے کس نے سمجھا ہے بدلتے ہوئے موسم کا مزاج دھوپ رہتے ہوئے برسات بھی ہو سکتی ہے ہاتھ آئی ہوئی بازی پہ بہت ناز نہ کر جیتنے والے تجھے مات بھی ہو سکتی ہے وادئ شب میں چراغوں کا یہ لشکر کیسا کوئی بھٹکی ہوئی بارات بھی ہو سکتی ہے ہم نے دیکھا بھی نہیں تم نے پکارا بھی نہیں کل یہی وجہ شکایات بھی ہو سکتی ہے ہم نے پہلے ہی خبردار کیا تھا معصومؔ راہ الفت میں کوئی گھات بھی ہو سکتی ہے

saamne baiTh ke kuchh baat bhi ho sakti hai

غزل · Ghazal

میں بے امان سہی پھر بھی یہ گمان تو ہے زمیں ہے پاؤں تلے سر پہ آسمان تو ہے ہر ایک لمحہ کسی تیر کا ہے ڈر لیکن میں مطمئن ہوں کہ میرے پروں میں جان تو ہے میں اس طرح در و دیوار سے ہوں بیگانہ کہ گھر نہیں نہ سہی گھر کا اک نشان تو ہے میں اپنی کشتئ امید سے نہیں مایوس پھٹا پرانا سہی پھر بھی بادبان تو ہے میں اپنی ذات سے باہر نکل کے سوچتا ہوں نہیں ہے ربط مگر میرا خاندان تو ہے چراغ جاں کا مقدر ہو جو بھی اے معصومؔ ہوا کے سامنے مصروف امتحان تو ہے

main be-amaan sahi phir bhi ye gumaan to hai

غزل · Ghazal

جنگل کی طرح پھیلا ہوا ڈر سمیٹ کر میں جانا چاہتا ہوں کہیں گھر سمیٹ کر دنیا سمیٹنے کے طلب گار ہیں بہت رکھا ہے میں نے خود کو بھی اکثر سمیٹ کر جی چاہتا ہے رکھ دوں کسی روز آگ پر غم ہائے روزگار کا دفتر سمیٹ کر کاٹی ہے رات ہم نے اندھیروں کے درمیاں آنکھوں میں اپنی صبح کا منظر سمیٹ کر جیتے جی کوئی ڈال گیا میرے سر پہ خاک اپنائیت کی ریشمی چادر سمیٹ کر معصومؔ آسمانوں کی رکھتے تھے جو خبر وہ روزنوں میں بیٹھ گئے پر سمیٹ کر

jangal ki tarah phailaa huaa Dar sameT kar

غزل · Ghazal

ہر سانس مہکتا ہوا احساس ہے زندہ دل میں ترے ملنے کی ابھی آس ہے زندہ اشکوں نے کوئی جس پہ عبارت نہیں چھوڑی محسوس یہ ہوتا ہے وہ قرطاس ہے زندہ اب جام نہیں زہر کا پیالہ ہے ضروری پیاسے کو گلہ ہے کہ ابھی پیاس ہے زندہ دھرتی میں جڑیں گاڑ کے سر اپنا اٹھائے بارش کے تصور میں ہری گھاس ہے زندہ بے جان سمجھ کر جسے وہ چھوڑ گیا تھا معصومؔ وہ تصویر مرے پاس ہے زندہ

har saans mahaktaa huaa ehsaas hai zinda

Similar Poets