
Mast Hafiz Rahmani
Mast Hafiz Rahmani
Mast Hafiz Rahmani
Ghazalغزل
اکیلا چھوڑ گیا مجھ کو قافلہ میرا سفر میں ساتھ رہا صرف حوصلہ میرا نہ جانے کتنے مسائل نے اس کو گھیر لیا وہ جس کے سامنے پہنچا ہے مسئلہ میرا وہ روبرو بھی رہا محو گفتگو بھی رہا ذرا بھی کم نہ ہوا اس سے فاصلہ میرا میں کوئی صبح کا اخبار تو نہیں یارو یہیں تو ختم نہ ہوگا معاملہ میرا
akelaa chhoD gayaa mujh ko qaafila meraa
میں زمیں پر میرے سر پر آسماں ٹہلا کیا ساتھ اپنے لے کے اپنا سائباں ٹہلا کیا پاس رہ کر بھی رہے اک دوسرے سے اجنبی خوف سا اک میرے ان کے درمیاں ٹہلا کیا تک رہی ہے کتنی حسرت سے مری جنت مجھے مجھ کو جانا تھا کہاں اور میں کہاں ٹہلا کیا لوگ آثار قدیمہ کی طرح تکتے رہے لکھ کے اک تختی پہ میں اردو زباں ٹہلا کیا ایک سگریٹ کی طرح جب بجھ گئی یہ زندگی مستؔ یادوں کا مری ہر سو دھواں ٹہلا کیا
main zamin par mere sar par aasmaan Tahlaa kiyaa
عشق اردو ہے میرؔ ہیں ہم بھی غم کدے کے اسیر ہیں ہم بھی آؤ کچھ دور ساتھ ساتھ چلیں تم بھی ہو راہگیر ہیں ہم بھی کج کلاہی ہے شان سلطانی آپ اپنی نظیر ہیں ہم بھی گھر میں بکھری ہوئی کتابیں ہیں خوش بہت ہیں امیر ہیں ہم بھی مسئلہ کوئی مسئلہ نہ رہا اپنی دھن میں فقیر ہیں ہم بھی ہاتھ خالی کوئی نہیں جاتا دست دے دستگیر ہیں ہم بھی ہم سے روشن ہیں دل کے آئینے مستؔ روشن ضمیر ہیں ہم بھی
'ishq-e-urdu hai 'mir' hain ham bhi
لکھتے لکھتے ہاتھ شل ہو جائیں گے داستاں اک ہم بھی کل ہو جائیں گے شاخ پر کھلنے تو دے ان کو صبا ایک دن یہ پھول پھل ہو جائیں گے کوئی ہو اپنا بدل ممکن نہیں آپ ہم اپنا بدل ہو جائیں گے آگ کے دریا سے گزریں گے اگر شعلے سارے جل ہی جل ہو جائیں گے جب سنیں گے لوگ مرنے کی خبر غمزدہ اہل غزل ہو جائیں گے حرف یکجہتی پہ آئے گا اگر سر بکف اہل غزل ہو جائیں گے
likhte likhte haath shal ho jaaeinge
ہر نفس پل صراط ہے بھائی امتحان حیات ہے بھائی حادثے مسکرا کے ملتے ہیں ہاتھ میں ان کا ہاتھ ہے بھائی چاند تارے سجے ہوئے ہیں مگر رات کیسی ہو رات ہے بھائی غم نہیں ہم سفر نہیں کوئی حوصلہ بھی تو ساتھ ہے بھائی سب جسے شاعری سمجھتے ہیں قلب کی واردات ہے بھائی شب میں فاقہ خدا پہ ہے تکیہ مستؔ کی کائنات ہے بھائی
har nafas pul-siraat hai bhaai
اپنے ہی دل میں نہیں ہر دل میں گھر میں نے کیا اس طرح سے زندگی کا طے سفر میں نے کیا خون دل سے عمر بھر میں نے سجائے بام و در زندگی کا لمحہ لمحہ با ہنر میں نے کیا اس نے بخشی عشق کے صحرا کی مجھ کو صاحبی اور ہر ذرہ سے اس کو جلوہ گر میں نے کیا ماہ و انجم فکر کی قیمت چکا سکتے نہیں اپنے اک اک حرف کو رشک گہر میں نے کیا ایک اک ٹہنی سے ملتی تھیں ہزاروں نعمتیں پھر بھی ان پیڑوں کو بے برگ و ثمر میں نے کیا مستؔ شاعر ہوں مگر واقف ہوں اپنے فرض سے بے خبر رہ کر بھی سب کو با خبر میں نے کیا
apne hi dil mein nahin har dil mein ghar main ne kiyaa





