SHAWORDS
M

Mastan Kashif

Mastan Kashif

Mastan Kashif

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

سامنے جب ہم نہیں ہوں گے تو کیا رہ جائے گا دیکھنے صورت تمہاری آئنہ رہ جائے گا اے کھلونے بیچنے والے ادھر سے مت گزر آج بھی بچہ مرا روتا ہوا رہ جائے گا کانچ کے ٹکڑے چنے اور ہاتھ زخمی کر لئے راستوں کو یاد اپنا حوصلہ رہ جائے گا دھوپ میں چل کر بہت ہم چھاؤں میں پہنچے تو کیا پاؤں میں کوئی نہ کوئی آبلہ رہ جائے گا آج بھی کاشفؔ اسے نظریں بچا کر دیکھنا اب تعلق نہ سہی یہ سلسلہ رہ جائے گا

saamne jab ham nahin honge to kyaa rah jaaegaa

3 views

غزل · Ghazal

یاد تازہ تیری کرنے کچھ وسیلے رہ گئے گر گئی دیوار سے تصویر کیلے رہ گئے حلق تر بھی نہ ہوا تھا منہ سے ساغر چھن گیا ہم وہ پیاسے ہیں کہ جن کے ہونٹ گیلے رہ گئے پھول چن کر لے گیا سب کوئی اپنا مہرباں باغ میں امید کے کانٹے نکیلے رہ گئے عمر کی وادی میں دکھ کی ریت پھیلانے کے بعد درد کے صحرا میں پھر دو چار ٹیلے رہ گئے خنجر ابرو نے کاشفؔ زندگی کر دی تمام زخم کھا کر آرزوؤں کے قبیلے رہ گئے

yaad taaza teri karne kuchh vasile rah gae

3 views

غزل · Ghazal

تنگ کمرے گھر بھی چھوٹے کیا ہوا تازہ لگے ہم چلیں جتنا بھی جھک کر سر کو دروازہ لگے کیا ہے طوفاں کیا ہے بارش آندھیاں ہوتی ہیں کیا گھاس کی چھت میں رہو تو پھر یہ اندازہ لگے جب کریں سڑکوں پہ مزدوری ابھاگن لڑکیاں پیاری پیاری صورتوں پہ دھول کا غازہ لگے دشت تنہائی میں کاشفؔ چھوڑ کر وہ کیا گئے بکھرا بکھرا زندگی کا اپنی شیرازہ لگے

tang kamre ghar bhi chhoTe kyaa havaa taaza lage

2 views

غزل · Ghazal

اک ایسے چارہ گر سے بھی رشتہ رہا مرا جتنا تھا زخم اتنا ہی گہرا رہا مرا میں کیا اکیلا چھانتا تیری گلی کی خاک وہ درد تھا جو ہاتھ بٹاتا رہا مرا وہ پیڑ کٹ کے ایک عمارت میں لگ گیا سائے میں جس کے کارواں ٹھہرا رہا مرا اب کے ہوائیں گھر سے مرے چھت بھی لے گئیں موسم نیا مذاق اڑاتا رہا مرا کاشفؔ کل ایک لاش سر راہ دیکھ کر مجھ سے ضمیر آنکھ چراتا رہا مرا

ik aise chaara-gar se bhi rishta rahaa miraa

Similar Poets