Master Nisar Ahmad
Master Nisar Ahmad
Master Nisar Ahmad
Ghazalغزل
zindagi ik hasin khvaab bhi hai
زندگی اک حسین خواب بھی ہے یہ مسرت بھی ہے عذاب بھی ہے دونوں پہلو ہیں اس میں پوشیدہ یہ حقیقت بھی ہے سراب بھی ہے زندگی رب کی اک امانت ہے صرف کرنے کا کچھ حساب بھی ہے علم اک روشنی ہے رستہ ہے علم سب سے بڑا حجاب بھی ہے عمر کتنی طویل ہو لیکن مثل اک ناتواں حباب بھی ہے شرم آنکھوں میں بھی ضروری ہے گرچہ رخ پہ پڑا نقاب بھی ہے
adaavat se agar tu be-khabar hotaa to achchhaa thaa
عداوت سے اگر تو بے خبر ہوتا تو اچھا تھا ترے دل پر محبت کا اثر ہوتا تو اچھا تھا تعلق اور شکایت لازم و ملزوم ہوتے ہیں اگر باہم وطیرہ درگزر ہوتا تو اچھا تھا سکون دل ترے دیدار سے برباد ہوتا ہے مری نظروں سے پوشیدہ اگر ہوتا تو اچھا تھا ترے بن بھی سفر تو زندگی کا کٹ ہی جائے گا مرے ہمدم تو میرا ہم سفر ہوتا تو اچھا تھا خدا نے تو عیاں کر دی بھلائی بھی برائی بھی اگر انساں شناس خیر و شر ہوتا تو اچھا تھا
adaavat dil mein rakhte ho zabaan par pyaar kyaa matlab
عداوت دل میں رکھتے ہو زباں پر پیار کیا مطلب کبھی نفرت کبھی الفت کا ہے اظہار کیا مطلب چلو ہم مان لیتے ہیں تمہیں کو رازداں لیکن کرو ہو راز کو افشا سر بازار کیا مطلب ابھی تو ٹھیک سے بیٹھے نہیں جانے کی جلدی ہے اچانک لوٹ کر جانے کا ہے اے یار کیا مطلب جو تھک کر بیٹھ جاتا ہے اسے مغلوب کہتے ہیں مسلسل جہد جو کرتا ہے اس کی ہار کیا مطلب حصول علم کی خاطر تو ضربیں سہنی پڑتی ہیں غرض اصلاح ہوتی ہے فقط آزار کیا مطلب
zakhm-e-dil taar-taar mat karnaa
زخم دل تار تار مت کرنا ذکر ماضی کا یار مت کرنا ہم نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں ہم سے ذکر بہار مت کرنا جب تلک مطمئن نہ ہو جاؤ راز دل آشکار مت کرنا یہ تبسم سزا نہ بن جائے یہ خطا بار بار مت کرنا آنکھ بن کر کے راز داروں میں ہر کسی کا شمار مت کرنا لوگ دل میں نفاق رکھتے ہیں عجلت اعتبار مت کرنا تجھ کو بزدل شمار کر لیں گے چھپ کے پیچھے سے وار مت کرنا زندگی کا بھی ایک مقصد ہے ہر جگہ جاں نثار مت کرنا





