Mateen Ahmad Mateen
Mateen Ahmad Mateen
Mateen Ahmad Mateen
Ghazalغزل
shuaa-e-samt-e-safar ko nazar mein rakhnaa hai
شعاع سمت سفر کو نظر میں رکھنا ہے تلاطم اور بھنور کو نظر میں رکھنا ہے ہیں راہ میں خس و خاشاک کے پہاڑ تو کیا طلسم برق کو اپنے ہنر میں رکھنا ہے شعار چوب قلم شیوۂ عصائے کلیم شعاع طور کو تار نظر میں رکھنا ہے نئے تبوک نے ان گن محاذ کھولے ہیں ابھی گناہ قدم اپنے گھر میں رکھنا ہے شبوں کے پاس رہے غار ثور کا تریاک حرا کا نور نمود سحر میں رکھنا ہے پھر اس ادا سے کھلیں ذہن و دل کے دروازے اسی نسیم اخوت کو سر میں رکھنا ہے ڈبو رہی ہے تہی سیپیوں کی نادانی صدی کے جال کو پل پل نظر میں رکھنا ہے کبھی ہے دھوپ کبھی فکر چاندنی ہے متینؔ تجلی زار غزل کو سفر میں رکھنا ہے
paakiza-pan meraa nasha
پاکیزہ پن میرا نشہ البیلا فن میرا نشہ لفظوں کا سنگھار کروں دیوانہ پن میرا نشہ نرگس کی آنکھوں کا نور گلشن گلشن میرا نشہ جنت کی حوریں ساقی خواب کا آنگن میرا نشہ قوس قزح صہبا کی موج حور کا دامن میرا نشہ برق کھلے جلوؤں کی آنچ دھانی چلمن میرا نشہ سچائی میری صہبا ظل سے ان بن میرا نشہ میں ہوں شرابی البیلا اکرام زن میرا نشہ رشک زمیں میرے موسم لفظ کا ساون میرا نشہ دل کا یہی اک رنگ متینؔ اجلا درپن میرا نشہ





