SHAWORDS
M

Mateen Amrohwi

Mateen Amrohwi

Mateen Amrohwi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

aah kisi ki yaad aai hai vo bhi itni raat gae

آہ کسی کی یاد آئی ہے وہ بھی اتنی رات گئے کھوئی ہوئی اک شے پائی ہے وہ بھی اتنی رات گئے اے غنچو آہستہ کھلنا ٹوٹ نہ جائے خواب اپنا مشکل سے تو نیند آئی ہے وہ بھی اتنی رات گئے وہ سوئے تو گجرا مہکے جاگے تو جگنو چمکے رات کی رانی مسکائی ہے وہ بھی اتنی رات گئے درد جگر نے جب تڑپایا ہوش و خرد نے سمجھایا آہیں بھرنا رسوائی ہے وہ بھی اتنی رات گئے در پہ متینؔ ان کے جو پہنچے فرط خوشی سے وہ بولے کیسے زحمت فرمائی ہے وہ بھی اتنی رات گئے

غزل · Ghazal

kahne ko husn-o-'ishq ke rakh liye ham ne naam do

کہنے کو حسن و عشق کے رکھ لیے ہم نے نام دو اصل میں دیکھیے تو یہ بادہ ہے ایک جام دو مجھ سے جنون عشق میں کرتے ہو بات ہوش کی اہل خرد زبان کو اپنی ذرا لگام دو گردش جام کا مجھے صبح سے انتظار ہے اب تو خدا کے واسطے آ گیا وقت شام دو دیکھا جو اس کو بام پر چاند بھی آ گیا نظر اہل نظر نے لے لیے ایک نظر سے کام دو ایک نگاہ شوق سے ایک حنائی ہاتھ سے کرتا ہے بزم ناز میں کوئی مجھے سلام دو حسن کے سر پہ تاج ہے عشق پہ اس کا راج ہے اس کا نصیب دیکھیے اس کو ملے مقام دو نثر میں نظم کا چلن غالبؔ و میرؔ کا ہے فن ایک سخن میں کیجئے پیش یہاں کلام دو دیکھنا کوئے یار میں اڑ کے متینؔ جاؤں گا مرکب خوش خرام کی مجھ کو ذرا لگام دو

غزل · Ghazal

chaman mein ye bahaar aane ke din hain

چمن میں یہ بہار آنے کے دن ہیں گلوں سے دل کو بہلانے کے دن ہیں کھلے ہیں پھول تو آئیں گے پھل بھی شجر میں یہ ثمر آنے کے دن ہیں جوانی گل رخوں پر آ رہی ہے یہی تو عشق فرمانے کے دن ہیں نہ دیکھو آئنے میں اپنا جلوہ نظر اپنی یہ لگ جانے کے دن ہیں دبے پاؤں وہ اس منزل سے گزرے اسے یہ بات سمجھانے کے دن ہیں حریم ناز کے پردے میں رہنا کہیں آنے نہ یہ جانے کے دن ہیں سمجھ کر یہ اسے دل دے دیا ہے متینؔ اس کو یہ اپنانے کے دن ہیں

غزل · Ghazal

kisi ko jaan pasand aai kisi ko dil pasand aayaa

کسی کو جاں پسند آئی کسی کو دل پسند آیا مجھے ہر زاویے سے وہ مہ کامل پسند آیا اگرچہ مشکلیں آئیں بہت راہ محبت میں مگر پھر بھی مجھے یہ جادۂ منزل پسند آیا ہوا تیر نظر سے خون ناحق جب سر مقتل مجھے قاتل پسند آیا اسے بسمل پسند آیا ہزاروں کاروان شوق گزرے دل کے صحرا سے مگر مجنوں کو لیلیٰ کا فقط محمل پسند آیا زمانہ چاند کے چہرے پر اس کو داغ کہتا ہے ترے رخسار پر لیکن مجھے یہ تل پسند آیا متینؔ آیا سر بزم سخن تو یہ کہا سب نے وہ دیکھو شاعر غالبؔ نما مشکل پسند آیا

غزل · Ghazal

raah mein un ki nain bichhaae

راہ میں ان کی نین بچھائے آنے والے پھر بھی نہ آئے آنکھ ملاتے کیا ان سے ہم کن انکھیوں سے دیکھ نہ پائے یہ جو بہار آئی زخموں پر پروائی نے پھول کھلائے اس کو خوشی کیا راس آئے گی غم بھی جس کو راس نہ آئے سوز دروں اس کو کہتے ہیں پانی میں جو آگ لگائے کل کیسے پھر کل آئے گی آج اگر دلدار نہ آئے

Similar Poets