SHAWORDS
Mauj Rampuri

Mauj Rampuri

Mauj Rampuri

Mauj Rampuri

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

کھلی فضا میں زندہ میں ایک آزاد پرندہ میں اپنوں کی نادانی پر غیروں سے شرمندہ میں ظاہر اک انساں کا روپ باطن ایک درندہ میں وہ آکاش پہ رہتا ہے دھرتی کا باشندہ میں رادھا تو ہے میرا تو گوپالا گووندہ میں تحریروں میں روشن تو کاغذ پر تابندہ میں ظالم چھوڑ کے مت جانا مر جاؤں گا زندہ میں دل کا حال سناؤں گا باقی موجؔ آئندہ میں

khuli fazaa mein zinda main

غزل · Ghazal

سیاہ شب کا مقدر سنورنے والا ہے کسی دریچے میں اک چاند اترنے والا ہے اندھیرے جس کی لکیریں مٹائے دیتے ہیں اسی ہتھیلی پہ سورج ابھرنے والا ہے وہاں سے ہم نے مسافت کی ابتدا کی تھی جہاں سے آج زمانہ گزرنے والا ہے ابھی نگاہ کا تیشہ نگاہ میں رکھنا پہاڑ ٹوٹ چکا ہے بکھرنے والا ہے وہ موج اشکوں کی جھیلیں یہ درد کے دریا چھلک نہ جائے وہ ساغر جو بھرنے والا ہے

siyaah shab kaa muqaddar sanvarne vaalaa hai

غزل · Ghazal

چمن میں رہ کے گلوں پر جب اختیار نہ ہو تو وہ چمن کبھی شرمندۂ بہار نہ ہو کوئی جہان میں عظمت بہار کی نہ کرے اگر ہمارا گریباں ہی تار تار نہ ہو یہ بھید کھل نہیں سکتا ہے اہل ظاہر پر کوئی جنون محبت کا رازدار نہ ہو ابھی تو ایسی ہزاروں شبیں گزرنی ہیں اسیر شام الم اتنا بے قرار نہ ہو وہی کہ جس کی قیادت کریں غلط رہبر وہ کارواں کبھی منزل سے ہم کنار نہ ہو مرا جہان تمنا اجاڑنے والے تباہیوں پہ مری دیکھ شرمسار نہ ہو وفا شعار وفا کا نہ کر کبھی اظہار اگر وفا کا زمانے کو اعتبار نہ ہو نہ لوں پناہ جنوں کی تو کیا کروں ہمدم کسی طرح بھی مرے دل کو جب قرار نہ ہو گلی میں رہنے کا دو اذن مستقل مجھ کو سکوں وہ چاہ رہا ہوں جو مستعار نہ ہو پھر آنے والے حوادث سے کون کھیلے گا سفینہ دامن ساحل سے ہم کنار نہ ہو یہی بہار اگر ہے تو موجؔ ممکن ہے جنوں کے ہاتھ کو دامن پہ اختیار نہ ہو

chaman mein rah ke gulon par jab ikhtiyaar na ho

غزل · Ghazal

بیٹھے ہیں ہم متاع محبت لیے ہوئے پہلو میں تیرے درد کی دولت لیے ہوئے دامن ہے تار تار گریباں ہے چاک چاک ہم ہیں جنون عشق کی دولت لیے ہوئے اٹھتی ہے بار بار سر محفل طرب اس شوخ کی نگاہ شرارت لیے ہوئے برباد کر کے چھوڑے گی دفتر گناہ کے وہ آنکھ ہے جو اشک ندامت لیے ہوئے مجھ کو بھلا نظر سے گرائے گا کیا جہاں میں ہوں تمہارے عشق کی عظمت لیے ہوئے بیٹھا ہے موجؔ بزم میں اس کا بھی کر خیال پہلو میں تیرے درد محبت لیے ہوئے

baiThe hain ham mataaa-e-mohabbat liye hue

غزل · Ghazal

وفا کی روشنی کم ہو رہی ہے طبیعت مائل غم ہو رہی ہے سیہ بختی کے سائے بڑھ رہے ہیں سکوں کی زلف برہم ہو رہی ہے امیدیں یاس میں ڈوبی ہوئی ہیں تمنا باعث غم ہو رہی ہے وفا کے نام کو تم بھی مٹا دو وفا تمہید ماتم ہو رہی ہے یہ کس انداز سے دیکھا ہے تم نے خوشی سے آنکھ پر نم ہو رہی ہے خلش کی منزلت ہے میرے دل میں خلش سے یاد پیہم ہو رہی ہے بہت سے رنگ بدلے گا زمانہ عبث تنظیم عالم ہو رہی ہے نفس کے تار ٹوٹے جا رہے ہیں کہ چشم موجؔ پر نم ہو رہی ہے

vafaa ki raushni kam ho rahi hai

غزل · Ghazal

اجاگر ہو گئے رخ زندگی کے وگرنہ تھے ارادے خودکشی کے ملے ہیں ان سے موقعے دوستی کے بڑے ممنون ہیں ہم زندگی کے یہ میدان وفا ہی ہے وہ میداں جہاں کھلتے ہیں جوہر آدمی کے کرم اے سخنی راہ محبت قدم تھرا گئے ہیں زندگی کے قدم چومے گی بڑھ کر کامیابی ارادے کیجئے منزل رسی کے نگاہ ناز نے کروٹ جو بدلی بدل کر رہ گئے رخ زندگی کے رہ انسانیت میں اتفاقا نکل آئے ہیں گوشے کجروی کے ہلاکت تھی جہاں ہم رنگ منزل کچھ ایسے موڑ آئے زندگی کے بظاہر دیکھنے میں دوستی ہے دلوں میں فیصلے ہیں دشمنی کے سلامت ہیں اگر میری وفائیں بدل جائیں گے پہلو بے رخی کے تمول کی عنایت پر نہ جانا الجھ جاتے ہیں دامن بے کسی کے ہوئی ہے موجؔ مشکل زندگانی صلے یہ پا رہا ہوں دوستی کے

ujaagar ho gae rukh zindagi ke

Similar Poets