SHAWORDS
Mayank Awasthi

Mayank Awasthi

Mayank Awasthi

Mayank Awasthi

poet
22Ghazal

Ghazalغزل

See all 22
غزل · Ghazal

اسی خاطر تو اس کی آرتی ہم نے اتاری ہے غزل بھی ماں ہے اور اس کی بھی شیروں کی سواری ہے محبت دھرم ہے ہم شاعروں کا دل پجاری ہے ابھی فرقہ پرستوں پہ ہماری نسل بھاری ہے ستارے چاند سورج پھول جگنو ساتھ ہیں ہر دم کوئی سرحد نہیں ایسی عجب دنیا ہماری ہے وو دل کے درد کی خوشبو کا عالم ہے کہ مت پوچھو تمہاری یاد میں یہ عمر جنت میں گزاری ہے یہ دنیا کیا سدھارے گی ہمیں ہم تو ہیں دیوانے ہمیں لوگوں نے اب تک عقل دنیا کی سدھاری ہے

isi khaatir to us ki aarti ham ne utaari hai

غزل · Ghazal

میاں مجبوریوں کا ربط اکثر ٹوٹ جاتا ہے وفائیں گر نہ ہوں بنیاد میں گھر ٹوٹ جاتا ہے شناور کو کوئی دلدل نہیں دریا دیا جائے جہاں کم ظرف بیٹھے ہوں سخنور ٹوٹ جاتا ہے انا خود دار کی رکھتی ہے اس کا سر بلندی پر کسی پورس کے آگے ہر سکندر ٹوٹ جاتا ہے ہم اپنے دوستو کے طنز سن کر مسکراتے ہیں مگر اس وقت کچھ اندر ہی اندر ٹوٹ جاتا ہے مرے دشمن کے جو حالات ہیں ان سے یہ ظاہر ہے کہ اب شیشے سے ٹکرانے پہ پتھر ٹوٹ جاتا ہے سنجو رکھی ہیں دل میں قیمتی یادیں مگر پھر بھی بس اک نازک سی ٹھوکر سے یہ لاکر ٹوٹ جاتا ہے کنارے پر نہیں اے دوست میں خود ہی کنارہ ہوں مجھے چھونے کی کوشش میں سمندر ٹوٹ جاتا ہے

miyaan majburiyon kaa rabt aksar TuuT jaataa hai

غزل · Ghazal

کھلتی ہی نہیں آنکھ اجالوں کے بھرم سے شب رنگ ہوا جاؤں میں سورج کے کرم سے ترکیب یہی ہے اسے پھولوں سے ڈھکا جائے چہرہ کو بچانا بھی ہے پتھر کے صنم سے اک جھیل سریکھی ہے غزل دشت ادب میں جو دور تھی جو دور رہی دور ہے ہم سے آخر یہ کھلا وو سبھی تاجر تھے گہر کے جن کے بھی مراسم تھے مرے دیدۂ نم سے کیوں کر وہ کسی میل کے پتھر پہ ٹھہر جائے کیوں رند کی نسبت ہو ترے دیر و حرم سے یہ میرے تخلص کا اثر مجھ پہ ہوا ہے اب یاد نہیں اپنا مجھے نام قسم سے

khulti hi nahin aankh ujaalon ke bharam se

غزل · Ghazal

قید شب حیات بدن میں گزار کے اڑ جاؤں گا میں صبح اذیت اتار کے اک دھوپ زندگی کو یوں صحرا بنا گئی آئے نہ اس اجاڑ میں موسم بہار کے یہ بے گناہ شمع جلے گی تمام رات اس کے لبوں سے چھو گئے تھے لب شرار کے سیلن کو راہ مل گئی دیمک کو سیرگاہ انجام دیکھ لیجئے گھر کی درار کے سجتی نہیں ہے تم پہ یہ تہذیب مغربی اک تو پھٹے لباس ہیں وہ بھی ادھار کے بادل نہیں حضور یہ آندھی ہے آگ کی آنکھوں سے دیکھیے ذرا چشمہ اتار کے جب ہتھکڑی کو توڑ کے کافر ہوا فرار روتے رہے اسیر خدا کو پکار کے

qaid-e-shab-e-hayaat badan mein guzaar ke

غزل · Ghazal

وہی عذاب وہی آسرا بھی جینے کا وہ میرا دل ہی نہیں زخم بھی ہے سینے کا میں بے لباس ہی شیشہ کے گھر میں رہتا ہوں مجھے بھی شوق ہے اپنی طرح سے جینے کا وہ دیکھ چاند کی پر نور کہکشاؤں میں تمام رنگ ہے خورشید کے پسینے کا میں پرخلوص ہوں پھاگن کی دوپہر کی طرح ترا مزاج لگے پوس کے مہینے کا سمندروں کے سفر میں سنبھال کر رکھنا کسی کنویں سے جو پانی ملا ہے پینے کا مینکؔ آنکھ میں سیلاب اٹھ نہ پائے کبھی کہ ایک اشک مسافر ہے اس سفینے کا

vahi azaab vahi aasraa bhi jiine kaa

غزل · Ghazal

تب اس کا زہر اسی کے بدن میں بھر جائے اگر زباں نہ چلائے تو سانپ مر جائے کھڑی ہے در پہ اجل اور مجھ میں جان نہیں کہو وہ دیر سے آئی ہے اپنے گھر جائے کوئی چراغ جہاں روشنی کا ذکر کرے سیاہ رات کا چہرہ وہیں اتر جائے وہ برگ خشک جسے شاخ نے لتاڑ دیا ہوا کے ساتھ نہ جائے تو پھر کدھر جائے یہ جو چراغ ہواؤں کی دھن پہ رقصاں ہے اسے بتاؤ ابھی وقت ہے سدھر جائے ادب کی سوچ یہی ہے تمہارا تیر نہیں تمہارا شعر دل و جان میں اتر جائے ترے بیان میں خوشبو ہے روشنی دل میں مینکؔ سب کی تمنا ہے تو بکھر جائے

tab us kaa zahr usi ke badan mein bhar jaae

Similar Poets