Mazhar Akhtar
samar-ruton mein to jhuk kar guzaarnaa hogaa
ثمر رتوں میں تو جھک کر گزارنا ہوگا شجر کو سنگ ملامت سہارنا ہوگا جو برف زاد ہیں تیشے شعاعوں کے دے کر انہیں بھی تازہ سفر پر ابھارنا ہوگا کریم باپ کی صورت جدید نسلوں کو بڑے ہنر سے ہمی کو سدھارنا ہوگا جو ذہن سیم کی یلغار سے ہوئے بنجر انہیں بھی حسن عمل سے سنوارنا ہوگا لبوں پہ پھول کھلائیں دلوں کو رام کریں خبر نہیں کسے کس دن سدھارنا ہوگا وہ بستیاں جنہیں تاراج کر گیا دریا جدید رنگ سے ان کو اسارنا ہوگا وہ جن کو قوت و منصب عطا کیا تو نے مرے خدا انہیں یزداں پکارنا ہوگا جلانا ہوں گی ہمیں کشتیاں لب دریا کہ یوں بھی جوش حمیت ابھارنا ہوگا صلیب شب پہ ابھرنا ہے شان سے اخترؔ سحر کا قرض ہمی کو اتارنا ہوگا