Mazhar Mujahidi
Mazhar Mujahidi
Mazhar Mujahidi
Ghazalغزل
hosh-o-havaas aql-o-khirad fan sameT kar
ہوش و حواس عقل و خرد فن سمیٹ کر لے جاؤ تم ہماری یہ الجھن سمیٹ کر میں نے جہاں رکھا تھا سبھی دھن سمیٹ کر بیٹھا ہوا ہے ناگ وہاں پھن سمیٹ کر جی بھر کے رویا شیشۂ دل صاف ہو گیا گرد و غبار لے گیا ساون سمیٹ کر اجڑی ہوئی ہے کٹیا مری ہائے ہائے ہائے رونق تمام لے گئی جوگن سمیٹ کر برسات آئی آ کے اے مظہر مجاہدیؔ دیوار و در کا لے گئی روغن سمیٹ کر
na sayyad mein na mirzaa mein na ansaari mein rakkhi hai
نہ سید میں نہ مرزا میں نہ انصاری میں رکھی ہے بشر کی شخصیت اس کی سمجھ داری میں رکھی ہے میں گھر آ کر زمانے کی تھکن سب بھول جاتا ہوں عجب راحت مری بچی کی کلکاری میں رکھی ہے کبھی غیروں پہ انگلی مت اٹھا اے رہبران ملک تباہی دیش کی اپنوں کی غداری میں رکھی ہے غریبی کا گلہ کرکے تو اپنی قدر مت کھونا بقائے عظمت نادار خودداری میں رکھی ہے بدن جل جائے گا مظہرؔ انہیں چھونے کی حسرت میں غضب کی آگ ان پھولوں کی چنگاری میں رکھی ہے





