SHAWORDS
Mazhar Qureshi Mazhar

Mazhar Qureshi Mazhar

Mazhar Qureshi Mazhar

Mazhar Qureshi Mazhar

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

عجب ایک ہنگامہ برپا ہوا ہے خلاف روایت اگر کچھ کہا ہے نہ ہے یہ کسی کی نہ ہوگی کسی کی مرے یار دنیا بڑی بے وفا ہے مکھوٹے شرافت کے پہنے ہیں لیکن نہ میں پارسا ہوں نہ تو پارسا ہے بھلائی کا بدلہ بھلائی ملے گا بھلے آدمی تجھ سے کس نے کہا ہے میں اپنے تجسس کی تسکیں تو کر لوں بھرم ہے کہ یا پھر وہ سچ مچ مرا ہے جدائی کا جو زخم تو نے دیا تھا مبارک ہو تجھ کو وہ اب تک ہرا ہے کچل ڈالے مظہرؔ کے سب خواب تو نے بس اتنا بتا دے تجھے کیا ملا ہے

'ajab ek hangaama barpaa huaa hai

غزل · Ghazal

دودھیا آنچل ہواؤں میں ذرا لہرائیے آئیے باد صبا بن کر مجھے مہکائیے حضرت دل پھر اسی کوچے میں کیوں کر جائیے مشغلہ یہ خوب ہے اب روز دھوکا کھائیے گھومتے پھرتے ہیں آنکھوں میں مری شام و سحر چھوڑیئے آوارگی دل کے مکیں ہو جائیے ڈال کر باہوں میں باہیں اس نے اترا کر کہا اب ذرا اس قید سے ہو کر رہا دکھلائیے یہ تغافل اور بہانے یہ کہانی عذر کی سن چکے ہیں بارہا للہ مت دہرائیے ہے تو یہ مظہرؔ کا لیکن معترف ہے آپ کا اس دل بیتاب کو اب آپ ہی سمجھایئے

dudhiyaa aanchal havaaon mein zaraa lahraaiye

غزل · Ghazal

امید یہ تھی رہے گا ہم پر تمہارا لطف و کرم مسلسل مگر شب وصل دور رہ کر کیا ہے تم نے ستم مسلسل نہ جانے کب سے بنے ہیں ہمسر ہمارے رنج و الم مسلسل ہے ظرف اپنا جو سہہ رہے ہیں انہیں خموشی سے ہم مسلسل چلا گیا بارشوں کا موسم زمین بھی خشک ہو چلی ہے او جانے والے ہماری آنکھیں مگر ابھی تک ہیں نم مسلسل رہ محبت سے لوٹنے کا ارادہ تو کر لیا تھا لیکن جنوں کے زیر اثر ابھی بھی رواں ہیں میرے قدم مسلسل اے کاش مجھ کو خبر نہ ہوتی تری جفاؤں کی او ستمگر بنا ہی رہتا نظر میں میری تری وفا کا بھرم مسلسل دراز زلفیں حسین آنکھیں دہکتے عارض گداز بانہیں ہم اپنی غزلوں میں کر رہے ہیں جمال تیرا رقم مسلسل زباں پہ مظہرؔ کی لاکھ تالے لگا دے کوئی مگر ہمیشہ خلاف ظلم و ستم یہ طے ہے لکھے گا اس کا قلم مسلسل

umiid ye thi rahegaa ham par tumhaaraa lutf-o-karam musalsal

غزل · Ghazal

حسرتیں ہوں کہ ہوں تمنائیں کوئی بتلائے کیسے بر آئیں ہم کو بھی یہ ہنر سکھا دیجے آنکھ نم ہو تو کیسے مسکائیں کر لیں اٹکھیلیاں رقیبوں سے پھر ملے وقت تو یہاں آئیں ہم بھی اپنی حدوں سے واقف ہیں مل کے خلوت میں یوں نہ گھبرائیں ہم پہ لازم ہے بھول جائیں انا اپنے رشتوں کو راہ پر لائیں ہے وظیفہ کوئی جسے پڑھ کر اس پری وش کو دام میں لائیں تجربہ جن کو مے کشی کا نہیں تبصرہ وہ نہ اس پہ فرمائیں مجھ سے جب واسطہ نہیں مظہرؔ میرے خوابوں میں بھی وہ کیوں آئیں

hasratein hon ki hon tamannaaein

غزل · Ghazal

جمال یار سے جب خود کو روبرو کیجے تو پہلے چشم تمنا کو با وضو کیجے زباں خموش رہے لب پہ جنبشیں بھی نہ ہوں مزے کا شغل ہے آنکھوں سے گفتگو کیجے فضول ان کو سنانا ہے مدعا دل کا نہیں سنیں گے وہ کتنی بھی ہائے ہو کیجے یہ کیا کہ آپ رقیبوں سے کہتے پھرتے ہیں ہماری بات ہے تو ہم سے دوبدو کیجے خیال و فکر کو مہکا کے اپنی خوشبو سے اے گلفشاں مری غزلوں کو مشکبو کیجے نہیں ہے پل کی خبر اس دیار فانی میں تو کس بنا پہ یہاں کل کی آرزو کیجے ہماری جان جلانے سے باز آ کے یہیں خدارا ختم یہ افسانۂ عدو کیجے طواف کوچۂ جاناں بہت ہوا مظہرؔ اب ان سے ملنے ملانے کی جستجو کیجے

jamaal-e-yaar se jab khud ko ru-baru kiije

غزل · Ghazal

نہیں میں نے دیکھی مجھے بھی دکھاؤ خوشی سے مرا بھی تعارف کراؤ کبھی کیف و مستی کی بارش میں بھیگو کبھی آگ پانی میں بھی تو لگاؤ یہ خم دار گیسو جو بکھرے ہیں رخ پر بھلے لگ رہے ہیں انہیں مت ہٹاؤ شب وصل مہکی ہوئی ہیں فضائیں یہ قربت کے لمحے یوں ہی مت گنواؤ رہ کمسنی سے گزر ہے تمہارا کہ وحشی نگاہوں سے خود کو بچاؤ فسوں ساز لگتی ہیں آنکھیں تمہاری خدا کے لیے مجھ سے نظریں ہٹاؤ مجھے تم سے لینے ہیں گن گن کے بدلے ذرا تم مری دسترس میں تو آؤ سراپا محبت کا مظہرؔ ہوں جانم میرے ساتھ نغمے محبت کے گاؤ

nahin main ne dekhi mujhe bhi dikhaao

Similar Poets