
Meem Sheen Najmi
Meem Sheen Najmi
Meem Sheen Najmi
Ghazalغزل
puchhte ho kyaa ki kyaa hai aadmi
پوچھتے ہو کیا کہ کیا ہے آدمی آب مٹی ہے ہوا ہے آدمی فطرتاً تو ہے بڑا ہی دل جلا پر مزاجاً دل بجھا ہے آدمی گتھیاں تقدیر کی سلجھائے کیا خود ہی جب الجھا ہوا ہے آدمی دور رہنے ہی میں سمجھو عافیت یہ نہ بھولو سر پھرا ہے آدمی ابتدا سے عمر کے انجام تک جنگ اپنی لڑ رہا ہے آدمی کر رہا ہے زندگی کا احتساب آپ اپنا آئنہ ہے آدمی لڑ نہیں سکتا وہ اپنے آپ سے کتنا بے بس ہو گیا ہے آدمی
jaagnaa raaton mein yaadon ke bhanvar mein Dubnaa
جاگنا راتوں میں یادوں کے بھنور میں ڈوبنا وہ دل مضطر کا سیل چشم تر میں ڈوبنا پہلے اپنے نفس کی مسمار کرنی ہے فصیل اور اس کے بعد ہے کار دگر میں ڈوبنا بھر لیا آنکھوں میں دریاؤں کو دریا کے لیے سخت مشکل ہو گیا پانی کے گھر میں ڈوبنا اور ہوں گے وہ جنہیں دنیا کا ہو خوف و ہراس ہم نے سیکھا ہی نہیں دنیا کے ڈر میں ڈوبنا آبلہ پائی کا موسم راس آ جاتا اگر کام آ جاتا مرا گرد سفر میں ڈوبنا ڈوب کے ابھرے ہیں ہم دنیا کے ہر مجھدھار سے اب رہا باقی فقط نقد و نظر میں ڈوبنا دوسروں کی عیب جوئی جس قدر آسان ہے اتنا ہی دشوار ہے خود کی نظر میں ڈوبنا جانے کس منزل پہ لے جائے تجھے جذب جنوں ہر قدم نجمیؔ ترا نقد و نظر میں ڈوبنا
din-ba-din naadaan bantaa jaae hai
دن بہ دن نادان بنتا جائے ہے آدمی حیوان بنتا جائے ہے جھوٹ مکاری تصنع مصلحت خود غرض انسان بنتا جائے ہے عارضی خوشیوں کا تکمیل عمل خون کا سیلان بنتا جائے ہے خواہشوں کی گھن گرج کے درمیان ذہن ریگستان بنتا جائے ہے پھول کی دیدہ دلیری کا عذاب خار پر بہتان بنتا جائے ہے ہر نظر یہ آدمی کا ہر اصول موت کا سامان بنتا جائے ہے
subh-dam kaun ye nindon se jagaa detaa hai
صبح دم کون یہ نیندوں سے جگا دیتا ہے رات کو لوری سناتا ہے سلا دیتا ہے بات بدلے کی یہاں تک اسے لے آئی ہے وہ مری یاد کو سولی پہ چڑھا دیتا ہے اس کی نیت میں ہے کیا وہ تو خدا ہی جانے میرا دشمن مجھے جینے کی دعا دیتا ہے جادۂ عشق میں درکار ہے اخلاص عمل ذرہ ذرہ جہاں پیغام وفا دیتا ہے ابر کا ٹکڑا ہی سر پر مرے وہ بھجواتا ریگ زاروں میں جو سبزے کو اگا دیتا ہے مشغلا اس کا ابھی تک ہے وہی سنتے ہیں ریت پہ لکھ کے مرا نام مٹا دیتا ہے ہم سمجھتے ہیں کمی بیشی توجہ کی تری کون ہے درد بڑھاتا ہے گھٹا دیتا ہے حسب توفیق عمل بھی ہے ضروری نجمیؔ کامیابی تو بہ ہر حال خدا دیتا ہے
baDi bad-naamiyaan hongi sar-e-baazaar milne se
بڑی بد نامیاں ہوں گی سر بازار ملنے سے دلوں کے بھید کھلتے ہیں نظر کے تار ملنے سے ہے دیوانہ تو دیوانہ درک کیا اس کو جذبوں کا ملے گا کیا تمہیں اس سے دیوانہ وار ملنے سے کوئی مقصد کوئی مطلب رہے تو بات بھی کچھ ہو نتیجہ ورنہ کیا ہوگا یوں ہی بے کار ملنے سے ملاقاتیں نئی کچھ رنگ بھرتی ہیں بڑے دل کش کہانی آگے بڑھتی ہے نئے کردار ملنے سے تصور میں اکیلے مل کے دیکھو گے تو جانو گے نہ ملنا کتنا بہتر تھا سر بازار ملنے سے کبھی حد سے زیادہ بڑھ بھی جاتے ہیں ستم گر یہ مسائل حل بھی ہو جاتے ہیں اکثر یار ملنے سے ہمیں ہم ایک ہیں دوجا نہیں کوئی تو بتلاؤ ہمیں روکے گی کیا دنیا دیوانہ وار ملنے سے
ham apni manzilon kaa aap hi naqsha banaate hain
ہم اپنی منزلوں کا آپ ہی نقشہ بناتے ہیں چٹانیں کاٹ کر اپنے لیے رستہ بناتے ہیں ریا کاری ہمارے سامنے کیا سر اٹھائے گی جو سچ کو سچ بتائے ہم وہ آئینہ بناتے ہیں الگ نقشہ بناتا ہے ادھر اک آسماں والا زمیں والے زمیں پر جب کوئی نقشہ بناتے ہیں نہ ہو دیوار کی بندش نہ سرحد کی لکیریں ہوں ہم اپنی کاوشوں سے ایسی ہی دنیا بناتے ہیں رکاوٹ کو رکاوٹ کب سمجھتے ہیں ہم اہل دل ہمارے واسطے حالات خود رستہ بناتے ہیں اسی اک بات پر نالاں ہیں ہم سے لوگ بستی کے جنہیں کہتے ہیں ہم اپنا انہیں اپنا بناتے ہیں ہم ایسے پیڑ ہیں نجمیؔ جھلستے ریگ زاروں میں جو تپتی دھوپ سہہ کر بھی گھنا سایہ بناتے ہیں





