
Meena Khan
Meena Khan
Meena Khan
Ghazalغزل
ہم نے جس کے لئے پھولوں کے جہاں چھوڑے ہیں اس نے اس دل میں فقط زخم نہاں چھوڑے ہیں ہم نے خود اپنے اصولوں کی حفاظت کے لئے دولتیں چھوڑ دیں شہرت کی جہاں چھوڑے ہیں زندگی ہم نے ترا ساتھ نبھانے کے لئے تپتے صحرا میں بھی قدموں کے نشاں چھوڑے ہیں ہم کسی اور کے ہو جائیں کسی کو چاہیں ایسے اسباب مگر اس نے کہاں چھوڑے ہیں جس کی پرچھائی لئے پھرتی ہیں آنکھیں میری اس نے پلکوں پہ مری آب رواں چھوڑے ہیں
ham ne jis ke liye phulon ke jahaan chhoDe hain
جمی ہوں برف کی صورت پگھلنا چاہتی ہوں میں حصار ذات سے باہر نکلنا چاہتی ہوں میں دیا بن کر نہاں خانوں میں جلنا چاہتی ہوں میں کسی کی روح کے سانچے میں ڈھلنا چاہتی ہوں میں جدا ہوتی ہی آئی ہے ہمیشہ ہیرؔ رانجھے سے اب اس رسم محبت کو بدلنا چاہتی ہوں میں میں جس مٹی سے آئی ہوں اسی مٹی میں ملنے تک ہزاروں بار گر کر بھی سنبھلنا چاہتی ہوں میں خزاں کے ڈر سے گھبرا کر پلٹنا چاہتا ہے وہ ہر اک موسم میں جس کے ساتھ چلنا چاہتی ہوں میں مٹا ڈالا ہے یکجہتی کو اس فرقہ پرستی نے کسی صورت بھی یہ صورت بدلنا چاہتی ہوں میں میں چاہتی ہوں کہ بن جاؤں کسی کی آرزو میناؔ کسی کا خواب بن کر دل میں پلنا چاہتی ہوں میں
jami huun barf ki surat pighalnaa chaahti huun main
یوں آپ جو آسودۂ غم کرتے رہیں گے ہم درد دل و جان کو کم کرتے رہیں گے سمجھے تھے کہ وہ شکوے گلے بھول گئے ہیں معلوم نہ تھا دل پہ رقم کرتے رہیں گے رکھیں گے ترے غم کو زمانے سے چھپا کر تنہائی میں ہم آنکھ کو نم کرتے رہیں گے آزار پہ آزار دئے جائیں گے ہنس کر ہر حال میں وہ ہم پہ کرم کرتے رہیں گے کیا اپنی حقیقت ہے سوا تیری عطا کے ہم خود کو تری ذات میں ضم کرتے رہیں گے جذبات سے معیار سے یا خون جگر سے ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے ایمان کی دولت ہے کہیں کفر کا غلبہ سب ذکر خدا ذکر صنم کرتے رہیں گے حالات نہ بدلیں نہ سہی پھر بھی اے میناؔ کوشش تو مگر اہل قلم کرتے رہیں گے
yuun aap jo aasuda-e-gham karte raheinge
ہم پر کرے گا رحمتیں پروردگار بھی حالات اپنے ہوں گے کبھی سازگار بھی تو نے بھلا دی چاہتیں قول و قرار بھی ہم منتظر رہے ترے سرحد کے پار بھی حالانکہ کر چکا تھا وہ ترک تعلقات پر کاش مڑ کے دیکھتا بس ایک بار بھی ڈیرا جما لیا ہے خزاں نے کچھ اس طرح اب خوش نہ کر سکے گی یہ فصل بہار بھی اپنی نگاہ میں تو رہے سرخ رو سدا انساں میں ہونا چاہیئے اتنا وقار بھی یہ اپنے رہنماؤں کے وعدوں کا ہے اثر بے اعتبار ہو گیا اب اعتبار بھی یہ کیسا دور آ گیا میناؔ کہ اب یہاں سکوں کے مول بکتا ہے اپنوں کا پیار بھی
ham par karegaa rahmatein parvardigaar bhi
زندگی جیسا لبھاؤں گی چلی جاؤں گی میں ترے خواب میں آؤں گی چلی جاؤں گی اس نے دیکھا ہی نہیں عزم مصمم میرا ہجر اوڑھوں گی بچھاؤں گی چلی جاؤں گی یہ کہانی تو مصنف کی چلے گی برسوں میں تو کردار نبھاؤں گی چلی جاؤں گی میں وہ جگنو ہوں جو تاروں کے سہارے کے بغیر بحر ظلمات مٹاؤں گی چلی جاؤں گی زندگی مجھ کو ذرا اتنی تو مہلت دینا شمع امید جلاؤں گی چلی جاؤں گی جاں لٹانی بھی پڑی مجھ کو وطن پر جو کبھی خاک ماتھے پہ لگاؤں گی چلی جاؤں گی اک نظر دیکھ لیں بس یہ مری آنکھیں تجھ کو عہد پھر اپنا نبھاؤں گی چلی جاؤں گی دل مرا ہو گیا جذبات سے عاری میناؔ اشک بھی اب نہ بہاؤں گی چلی جاؤں گی
zindagi jaisaa lubhaaungi chali jaaungi
جب جب بھی ہم نے ہم نشیں دل کا کہا نہیں کیا ایسا لگا ہے زندگی کا حق ادا نہیں کیا کہنے کو یوں تو آپ سے شکوہ ہزار تھے مگر ہم نے کبھی خلاف دل کوئی گلا نہیں کیا دل کے معاملات تھے دل میں ہی دفن کر لیے اس بے وفا سے ہم نے پھر ذکر وفا نہیں کیا کچھ تو ہوا ضرور ہے ہم سے اگر خفا ہے وہ ہم نے تو جان بوجھ کر اس کو خفا نہیں کیا کار جہاں میں خوب تر گزری ہے اپنی زندگی لیکن یہ دل پہ بوجھ ہے کار خدا نہیں کیا تنہائیوں میں خود سے ہی ہم محو گفتگو رہے اس کے سوا کسی سے پھر عہد وفا نہیں کیا ایسا بھی دور زیست تھا شہ رگ سے وہ قریب تھا اب ہے وہ بے نیاز تو ہم نے پتہ نہیں کیا آئیں گے لوٹ کر وہ ہی دل کو یقیں تھا اس لیے ہم نے کسی کے واسطے دروازہ وا نہیں کیا
jab jab bhi ham ne ham-nashin dil kaa kahaa nahin kiyaa





