
Meer Anjum Parvez
Meer Anjum Parvez
Meer Anjum Parvez
Ghazalغزل
saath teraa huaa agar mahsus
ساتھ تیرا ہوا اگر محسوس مجھ کو ہو گا نہ یہ سفر محسوس حسن جاناں کا ذکر ہو تو زیست ہونے لگتی ہے مختصر محسوس ہے گل سر سبد رخ انور لمحہ لمحہ ہو تازہ تر محسوس کر رہے ہیں فراق کو دونوں وہ ادھر اور ہم ادھر محسوس ہجر کا دکھ نہ ہو تو کیونکر ہو لذت وصل اس قدر محسوس ہے وہ ناواقف جنوں جو کرے دشت کو دشت گھر کو گھر محسوس روشنی کیا کرے گا دنیا میں ہو اندھیروں سے جس کو ڈر محسوس اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھو آنکھ کرتی نہیں اگر محسوس اپنے ہی خواب میں نہ رہ انجمؔ عہد کے درد کو بھی کر محسوس
kis ne badlaa naqsh-e-kohna dahr ki tasvir kaa
کس نے بدلا نقش کہنہ دہر کی تصویر کا یہ مکافات عمل ہے یا لکھا تقدیر کا جو کہو گے دل پہ لکھا جائے گا پر دیکھنا حرف تک مٹتا نہیں دل پر لکھی تحریر کا داستان عشق میری ہے زمانے سے جدا قصۂ لیلیٰ نہ ہی کوئی فسانہ ہیر کا میں اسیر زلف جاناں مجھ کو آزادی کہاں سلسلہ در سلسلہ ہے سلسلہ زنجیر کا جس طرف دیکھیں جمال یار ہے جلوہ فروز آئنہ در آئنہ عکس ایک ہی تصویر کا اے دل صد چاک افسردہ و پژمردہ نہ ہو حسرتوں کے دن گئے اب وقت ہے تعمیر کا قافیہ پیمائیاں مقصود تک بندی نہیں دل میں ہے اک عزم تیرے نام کی تشہیر کا
tu agar darmiyaan nahin hotaa
تو اگر درمیاں نہیں ہوتا عشق کا امتحاں نہیں ہوتا تیرے قدموں کی خاک ہوتا میں قالب جسم و جاں نہیں ہوتا تجھ سے سب کچھ جو تو نہیں ہوتا کچھ بھی اے میری جاں نہیں ہوتا جو کروں نذر جسم جان کہ دل تیرے شایان شاں نہیں ہوتا بات کرتا ہوں روبرو تجھ سے جب کوئی درمیاں نہیں ہوتا وصل کی آرزو نہ ہو جس کو ہجر اس پر گراں نہیں ہوتا مسکرا تو رہا ہوں محفل میں پر غم دل نہاں نہیں ہوتا درد اگر درد عشق نے ہوتا وجہ تسکین جاں نہیں ہوتا لفظ ہرچند آئنے ہیں مگر دل میں جو ہے عیاں نہیں ہوتا چشم بھی بولتی ہے چہرہ بھی لفظ ہی ترجماں نہیں ہوتا
husn kaa tazkira jamaal kaa zikr
حسن کا تذکرہ جمال کا ذکر کیجیے اس کے خد و خال کا ذکر خوش ادا اور خوش خصال کا ذکر حسن کا حسن کے کمال کا ذکر کھینچیے نقشہ اس کی قامت کا یعنی ہو سر تا پا جمال کا ذکر اس کی آنکھوں کا تذکرہ کیجے چھوڑیے دشت کے غزال کا ذکر شب فرقت کا ایک اک لمحہ کرتا ہے اس کے بال بال کا ذکر ایک اک نقش ایسا موزوں ہے ختم ہے اس پہ اعتدال کا ذکر کہاں سے لاؤں وہ کلام کہ ہو جس سے اس حسن بے مثال کا ذکر دل کسی طور عشق سے نہ رکا عقل کرتی رہی مآل کا ذکر ایک پل میں سمٹ گئی ہے زیست کیا کرے کوئی ماہ و سال کا ذکر لذت وصل زخم ہجر سے ہے ہجر نئیں ہو تو کیا وصال کا ذکر
aap se ho sakaa na gar kuchh aur
آپ سے ہو سکا نہ گر کچھ اور کیجے گا مت اگر مگر کچھ اور عشق کا کاروبار چل نہ سکا دل ناکام کام کر کچھ اور عقل کا مشورہ تھا اور ہی کچھ فیصلہ دل کا تھا مگر کچھ اور ان کے جلوؤں کی تھی حقیقت کچھ آ رہا تھا مگر نظر کچھ اور ہے خزاں بہر خار فصل بہار پر گزرتی ہے پھول پر کچھ اور تیرے کوچے کا قصد تھا ورنہ ہم نہیں ہوتے دربدر کچھ اور آخرش تیرے در پہ آئیں گے لوگ پھر لیں ادھر ادھر کچھ اور لے گئے لفظ ہم کو اور ہی اور خامہ تھاما تھا سوچ کر کچھ اور عام لگتا تھا جب عوام میں تھا پر جب آیا وہ بام پر کچھ اور
sab chaaragari hech masihaai 'abas hai
سب چارہ گری ہیچ مسیحائی عبث ہے ناخن ہی مرے زخم کو سلنے نہیں دیتے وہ غنچۂ حسرت زدہ ہوں جس کو بگولے دو دن کے لیے بھی کہیں کھلنے نہیں دیتے اور اہل زمانہ کا ستم اس سے سوا ہے جو وصل کے موسم میں بھی ملنے نہیں دیتے





