Meer Qamruddin Mannat
muddai us se sukhan-saaz ba-saalusi hai
مدعی اس سے سخن ساز بہ سالوسی ہے پھر تمنا کو یہاں شقہ مایوسی ہے آہ اے کثرت داغ غم خوباں کہ مدام صفحۂ سینہ پر از جلوۂ طاؤسی ہے میری ہی طرح جگر خوں ہے ترا مدت سے اے حنا کس کی تجھے خواہش پا بوسی ہے تہمت عشق عبث کرتے ہیں مجھ کو منتؔ ہاں یہ سچ ملنے کی خوباں سے تو اک خو سی ہے