SHAWORDS
Meesam Mirza

Meesam Mirza

Meesam Mirza

Meesam Mirza

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

aankhein thakan se chuur hain larzish badan mein hai

آنکھیں تھکن سے چور ہیں لرزش بدن میں ہے خوشبو بہار و رنگ کہاں اب چمن میں ہے گرتا ہے سختیوں کے سبب یوں وہ راہگیر قوت نہ حوصلہ نہ جنوں جان و تن میں ہے صحرا کی دھوپ میں جو جھلستا ہے عمر بھر پوچھو کہ کتنی تشنگی اس کے دہن میں ہے میرے لہو سے پیاس بجھائیں گے کچھ عزیز اتنی مخالفت مری اپنے وطن میں ہے رکھو میرے جنازے سے شکوے ذرا سے دور اتنی جگہ لحد میں نہ میرے کفن میں ہے کرتے قبول موت غریب الوطن مگر کس جا وہ لطف پاتے جو خاک وطن میں ہے میسمؔ یہ تلخ لہجہ یہ شکوے شکایتیں کیا ہے جو اتنی عاجزی تیرے سخن میں ہے

غزل · Ghazal

aise nashe to karne ki aadat si ho gai

ایسے نشے تو کرنے کی عادت سی ہو گئی اب بار بار مرنے کی عادت سی ہو گئی رنج و الم تو چھوڑئیے خوشیوں میں آج کل آنکھوں میں اشک بھرنے کی عادت سی ہو گئی مرہم ہی بن گیا ہے مرے درد کا سبب زخموں کو یوں ابھرنے کی عادت سی ہو گئی ہر چوٹ سے میں اور نکھرتا چلا گیا مشکل میں بھی سنورنے کی عادت سی ہو گئی کیا کوئی آس پاس ہے یا ہے گماں مجھے یوں بے وجہ ٹھہرنے کی عادت سی ہو گئی جس راہ سے گزرنا کبھی ناگوار تھا اس راہ سے گزرنے کی عادت سی ہو گئی بے خوف چل پڑے تھے محبت کی راہ میں اب ہر قدم پہ ڈرنے کی عادت سی ہو گئی کیسے چھڑائیں رنگ محبت پتا نہیں ہر دل سے تو اترنے کی عادت سی ہو گئی اب کون میرے دل میں بنائے گا آشیاں اس شہر کو اجڑنے کی عادت سی ہو گئی

Similar Poets