
Meesam Naqvi
Meesam Naqvi
Meesam Naqvi
Ghazalغزل
suraj ki tamaazat se hai zebaaish-e-sahraa
سورج کی تمازت سے ہے زیبائش صحرا اور ریت کے ٹیلوں سے ہے آرائش صحرا یہ آبلہ پائی ہو یا پھر تشنہ لبی ہو ہوتی ہے انہی سے ہی تو آسائش صحرا کم یاب یا نایاب تو ہونے نہیں دوں گا کرتا ہوں جنوں سازی سے افزائش صحرا کب درد و الم کا یہاں پیمانہ بنا ہے کب کون بھلا کرتا ہے پیمائش صحرا منطق نہیں چلتی کبھی صحرائے جنوں میں یعنی کہ خرد مندی ہے آلائش صحرا کیوں درد اٹھا پھر سے مرے قلب حزیں میں کیوں کرنے لگا پھر سے یہ فرمائش صحرا اس شہر میں اب دشت نوردوں کا ہے ڈیرا بنتی ہے یہاں پر ابھی گنجائش صحرا
be-misl khad-o-khaal na rukhsaar na lab se
بے مثل خد و خال نہ رخسار نہ لب سے بھائے ہیں ہمیں آپ کسی اور سبب سے تو طفل جہاں شاد ہے میں قلب حزیں ہوں پھر کیسے بہل جاؤں تری بزم طرب سے صد شکر میسر دل مضطر کو سکوں ہے اک بزم عزا داری و اک گریۂ شب سے تسکین دل و جاں ہیں ترے نسخے طبیبہ بیمار شفا پاتے ہیں یوں تیرے مطب سے کردار ضروری ہے تعارف کے لیے بھی پہچان کہاں ہوتی ہے اب نام و نسب سے اب لوگ ترے تخت کو تاراج کریں گے اب لوگ نہیں ڈرتے ترے غیظ و غضب سے شاید تری دنیا سے چلا جاؤں اچانک آتے ہیں مجھے خواب پراسرار و عجب سے
duniyaa ke saare kaam qazaa kar rahaa huun main
دنیا کے سارے کام قضا کر رہا ہوں میں بس واجبات عشق ادا کر رہا ہوں میں اک اور آدمی سے تعلق بنا لیا اک اور زندگی میں خطا کر رہا ہوں میں اے طائر خیال خد و خال بے رخاں خوش ہو کہ اب تجھے بھی رہا کر رہا ہوں میں سب رنگ تیرے دل کے ورق پر اتار کر خوشبو تری سپرد ہوا کر رہا ہوں میں جلتا ہوا دیا ہے تو کچھ دیر گل کرو تجدید عہد مہر و وفا کر رہا ہوں میں
ham raazdaar-e-markaz-e-parkaar-e-'ishq hain
ہم رازدار مرکز پرکار عشق ہیں یعنی بنائے رونق بازار عشق ہیں جن کے سروں سے زینت نوک سناں ہوئی وہ سرفروش زینت دستار عشق ہیں عصر منافقت میں جئیں بھی تو کیا جئیں مسند نشین دہر طلب گار عشق ہیں اہل جنوں تو سب یہاں مقتل سجائیں گے اہل خرد ادھر پس دیوار عشق ہیں سرخیل عشق سید عشاق بھی ہمیں اس شش جہات میں ہمیں سالار عشق ہیں جلنے لگا ہے خیمۂ دل اس طرح مرا جیسے نمو پزیر یاں آثار عشق ہیں یہ رتجگے یہ دشت نوردی کا ذوق و شوق اچھا میاں سو آپ بھی بیمار عشق ہیں
bas ek kahaani huun fasaana huun fusun main
بس ایک کہانی ہوں فسانہ ہوں فسوں میں کیا اور بھلا اپنے تعارف میں کہوں میں اک لذت نایاب رہے مجھ کو میسر یہ وصل کے لمحات اگر روک سکوں میں یہ دشت نوردی بھی ترے حکم کی تعمیل تو اذن سفر دے تو کہیں اور چلوں میں آبا سے ملی ہے مجھے حق گوئی کی میراث اب جھوٹ کے لشکر سے بھلا کیسے ڈروں میں درپیش محبت مجھے رہتی ہے ہمہ وقت اس کام سے فرصت ہو تو کچھ اور کروں میں صحرا سا ہوا جاتا ہے دل میرا ترے بعد دریا کو مگر ضبط سے آنکھوں میں رکھوں میں اے ظلم کے پیکر میں ترے تخت کے درپے اور تیری یہ خواہش کہ ترے پاؤں پڑوں میں
kaise qirtaas pe laaun main jamaal-e-khush-ru
کیسے قرطاس پہ لاؤں میں جمال خوش رو چاند تارے نہ کوئی پھول مثال خوش رو اب تو احباب مرے دل کی عجب حالت ہے کوئی خواہش ہے نہ امید وصال خوش رو دھیرے دھیرے سے رہ عشق میں رفتار بڑھا راکب باد خیال خد و خال خوش رو میں تو اب سختیٔ حالات سے گھبراتا نہیں میرا تریاق غم دہر خیال خوش رو میں نے بس مشق سخن کے لیے لکھا میثمؔ اور غزل ہو گئی منسوب غزال خوش رو





