
Megi Asnani
Megi Asnani
Megi Asnani
Ghazalغزل
جو لوگ گئے کب آئے ہیں بس یاد کے بادل چھائے ہیں آواز غموں میں فوت ہوئی الفاظ بہت مرجھائے ہیں اک راجکماری ٹوٹ گئی وہ ظلم محل نے ڈھائے ہیں اے وصل ترا شکرانہ پر اس ہجر کے اب تک سائے ہیں
jo log gae kab aae hain
تجھ پہ سب کچھ لٹا کے کیا کرتی اور خود کو بچا کے کیا کرتی میرا چہرا اداس رہتا ہے آئنے کو دکھا کے کیا کرتی دل تمہارے بنا نہیں لگتا لگ بھی جاتا لگا کے کیا کرتی وہ کسی بات پر نہیں ہنستا میں لطیفے سنا کے کیا کرتی لفظ زخموں سے رسنے لگ گئے تھے ان کو دل میں دبا کے کیا کرتی وہ تو مہمان بن کے آیا تھا دیر تک پھر بٹھا کے کیا کرتی تم کو اک گفٹ بھی نہ دے پاؤں ایسے پیسے کما کے کیا کرتی
tujh pe sab kuchh luTaa ke kyaa karti
سارے جگ سے روٹھ جانا چاہتی ہوں ہاں مگر تم کو منانا چاہتی ہوں اک خوشی گر تو جو مجھ کو دے سکے تو سارے غم کو بھول جانا چاہتی ہوں ہاں وطن کو چھوڑا برسو ہو چکے ہیں اب میں لیکن لوٹ آنا چاہتی ہوں ابتدا تو ہی ہے میری انتہا بھی میں فقط اتنا بتانا چاہتی ہوں اینٹ پتھر سے مکاں بنتے ہے سب کے میں بھروسے کا بنانا چاہتی ہوں بس ترا ہی پیار مانگوں زندگی میں میں کہاں کوئی خزانہ چاہتی ہوں میں نے کب چاہا کی مر جانا مجھے ہے ایک جینے کا بہانہ چاہتی ہوں
saare jag se ruuTh jaanaa chaahti huun
محبت میں تھوڑا سنبھلتے ہوئے بہت لوگ دیکھے بدلتے ہوئے کئی بار مڑ مڑ کے دیکھا کئے کسی کی گلی سے نکلتے ہوئے محبت میں ہم کو سکوں مل گیا کہا تھا چراغوں نے جلتے ہوئے بس اک رات ہی تو ہے اتنا کہا مری شام نے شام ڈھلتے ہوئے یہی سوچتی ہوں وہ کیا بولتی ہوا بولتی کچھ جو چلتے ہوئے کسی نے کہا رات کٹتی نہیں کہا بھی یہ کب دن نکلتے ہوئے
mohabbat mein thoDaa sanbhalte hue
نیا سفر نئی پگڈنڈیاں بناتی ہوں زمیں کی ریت سے میں آسماں بناتی ہوں میں چاہتی ہوں مرے ساتھ وہ بڑھیں آگے سو دشمنوں کے لیے سیڑھیاں بناتی ہوں اب اتنی حیرتوں سے دیکھتے ہو کیوں اس کو بنا سکے نہ جو تم وہ مکاں بناتی ہوں مجھے خبر ہے کہ اس بے وفا کا مخبر ہے یہ میرا دل ہے جسے رازداں بناتی ہوں تمہاری یاد کے کمرے میں کچھ گھٹن سی ہے رکو میں اس میں کہیں کھڑکیاں بناتی ہوں اداس لڑکیاں آئیں اور آ کے لے جائیں میں ان کے واسطے بھی چوڑیاں بناتی ہوں کسی کی سوچ پہ قدغن نہیں لگاتی میں دماغ کھولنے کی چابیاں بناتی ہوں یہ لوگ کہتے ہیں میں بھی عجیب لڑکی ہوں کہ دھوپ کاٹتی ہوں سائباں بناتی ہوں
nayaa safar nai pagDanDiyaan banaati huun
تم نے جو بھی کہا ہوا تو نہیں میرا سچ بولنا برا تو نہیں یہ جو سرحد کے پار سے آئی یہ کہیں میری ہی صدا تو نہیں تیری ہر بات مان لوں کیسے تو مرا عشق ہے خدا تو نہیں اس کے سینہ میں دل دھڑکتا ہے ویسے وہ شخص مانتا تو نہیں مجھ کو جادوگری نہیں آتی شاعرہ ہوں میں ساحرہ تو نہیں آج کی رات کیوں پریشاں ہوں کل کہیں اس کا سامنا تو نہیں مرنے والے کا نام زندہ ہے اس کا مطلب ہے وہ مرا تو نہیں آخر کار میں بھی انساں ہوں آپ کو مجھ سے مسئلہ تو نہیں میں تجھے کس طرح سے سمجھاؤں شاعری ہے یہ فلسفہ تو نہیں آج میں کچھ زیادہ بول گئی آپ کا دل کہیں دکھا تو نہیں
tum ne jo bhi kahaa huaa to nahin





