Mehar Aurangabadi
Mehar Aurangabadi
Mehar Aurangabadi
Ghazalغزل
سوز دل سے آہ کی بھڑکے اٹھا دوں تو سہی
سوز دل سے آہ کی بھڑکے اٹھا دوں تو سہی خرقۂ پشمینہ میں زاہد کا جلادوں تو سہی ریش قاضی افسر مینا ہے جیوں بال ہما ریش زاہد تحت طاوسی بنادوں تو سہی ترش روئی سے ہوئی زاہد کو کھانسی آخرش اس بہانے اس کو میں دارو پلا دوں تو سہی
خاک ہونا کیمیائے عشق کی تدبیر ہے
خاک ہونا کیمیائے عشق کی تدبیر ہے پارہ بیتبائی دل مارنا اکسیر ہے آبرو پائی شجاعت نے عطائے فقر سے موج نقش بوریائے جوہر شمشیر ہے جوں صبا یک دم خراشی کر کہ تجھ بن باغ میں ہے گریباں چاک گل غنچہ نپٹ دلگیر ہے مہرؔ سے ذرے تلک ہے اوس کے پرتو کا شہود جلوۂ شاہ جہاں بے شبہ عالم گیر ہے
ترے چاہ زنخ سے دل کے تئیں اخلاص ہے گہرا
ترے چاہ زنخ سے دل کے تئیں اخلاص ہے گہرا کہ شاید ان دنو چھوڑا ہے ان نے زلف کا لہرا رہا خشک اور نہ پایا مغز اوس کی بات کا ہرگز رقیب اندھے کو کچھ نیئں یار سے آخر ہوا بہرا صبا کہیو کہ اب کی فصل دیوانوں پہ گیا گزری کیا ہے گل نے اپنا جامہ چاک آیا برا پہرا
خسرو ہمیں عشق کی بیداد ہے
خسرو ہمیں عشق کی بیداد ہے جان شیریں جو دیا فرہاد ہے قید سے کیا کم ہے پابند چمن سرو کو کیوں کر کہو آزاد ہے حشر تک ہرگز نہ بھولیں گے کبھو ظلم تیرا ہم کو ظالم یاد ہے





