SHAWORDS
Mehdi Jafar

Mehdi Jafar

Mehdi Jafar

Mehdi Jafar

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

پڑی جو ضرب تلاطم رگ حسین پہ ایک میں آسماں میں کئی تھا گرا زمین پہ ایک کہیں قریب پھٹکتا نہ تھا مرا سایہ لئے عقاب وہ چلتا تھا آستین پہ ایک سمٹ سمٹ گیا ہر واقعے کا پیراہن نہ تھی طلسم کی تہہ چشم خوردبین پہ ایک اکیلا خود تھا مجھے کیوں قصوروار کیا لکھا جو شعلۂ جوالہ سے جبین پہ ایک رتوں کو کچھ نہ ملا ایک ذائقے کے سوا نحیف جسم یہ بھاری کبھی تھا تین پہ ایک لباس تج کے عجب بے بسی میں تھے اشجار وہ اژدہا سا تڑپتا رہا زمین پہ ایک اسی کے شور کے پیچھے گرجتے تھے بادل عجیب بوند تھی ٹپکی تھی گھر کے ٹین پہ ایک

paDi jo zarb-e-talaatum rag-e-hasin pe ek

غزل · Ghazal

شب نے پیدا کی خرابی دور تک گم ہے عکس آفتابی دور تک دل شفق کا چیر کر دیکھو ذرا ہے لہو میرا گلابی دور تک لے اڑی ان کو سمندر کی ہوا اب کہاں مرغان آبی دور تک کب ہوا تھا جانے کس جا واقعہ ہم نے جھیلی اضطرابی دور تک دانے دنکے ہیں ستاروں کے عوض عرش نے الٹی رکابی دور تک ہم مؤدب وہ مجسم ہیں خبر ان کی شان باریابی دور تک

shab ne paidaa ki kharaabi duur tak

غزل · Ghazal

آموختے کا جال زباں سے لپٹ گیا بدلی ہوا تو حرف کا پانسہ پلٹ گیا مجھ سے نکل کے ہیبت شب کا تھا سامنا سایہ وفور خوف سے پلٹا چمٹ گیا صد تلخیوں کی شاخ پہ بیٹھی تھی موج نیم برگد سے آ کے جھونکا ہوا کا پلٹ گیا تھی شہر انحصار میں پھسلن گلی گلی میں لڑکھڑا گیا مرا خچر رپٹ گیا تاریک بے کنار سمندر پڑا رہا منظر تمام غار کے اندر سمٹ گیا

aamokhte kaa jaal zabaan se lipaT gayaa

غزل · Ghazal

خشک دراروں والا دریا زیر زمیں ہے بالا دریا اس کو بڑا راس آیا دریا میں اور دیس نکالا دریا لہروں کی تحریر کنارے ریت پہ لکھا قصہ دریا آؤ یہ افواہ اڑائیں ہم نے خواب میں دیکھا دریا تہ میں عکساں نقش و مناظر اوپر شہر کے بہتا دریا آج بھی تیرے شہر ہیں پیاسے اب بھی دور ہے خیمہ دریا پل پر غوطہ خور پلے ہیں سکہ بھاری ہلکا دریا دور چراغ کی لو پر زندہ سرما کا برفیلا دریا اپنا سایہ ڈھونڈ رہا ہوں شام ہے پل بھر تھم جا دریا

khushk daraaron vaalaa dariyaa

غزل · Ghazal

دستک دے زنجیر کی صورت آ دست نوا تحریر کی صورت آ ملنا کیا ہے بیٹھ کنارے ہو کچھ تو بنے تعمیر کی صورت آ طرز کشیدہ کیوں یہ ترا مجھ سے طور جراحت تیر کی صورت آ معنی لفظ کی لوح کو نگلے جب مثل کن تعبیر کی صورت آ خشک آنکھوں کو دید سے خیرہ کر خواب ابھر شمشیر کی صورت آ

dastak de zanjir ki surat aa

غزل · Ghazal

دنیا کا ہے اجالا پتھر یزداں تیرا کالا پتھر چوٹی تک جس نے پہنچایا اس کو دیکھ سنبھالا پتھر منہ تک اب لے جانا کٹھن ہے بن جاتا ہے نوالا پتھر تتلی آن کے اس پر بیٹھے پھول بنے ہے سالا پتھر کچھ تو تھا مجھ میں جب اس نے میری سمت اچھالا پتھر لعل و گہر بازار کو دے دے گھر کے لیے بچا لا پتھر جبر جو خیر سے الجھا سمجھا الا خدا تھا بنا لا پتھر میرا تو اک رنگ بدن ہے ان کے لئے ہے جیالا پتھر اس کے بنا تھا جینا کیسا وہ نہ ملا تو کہا لا پتھر

duniyaa kaa hai ujaalaa patthar

Similar Poets