
Mehdi Machli Shahri
Mehdi Machli Shahri
Mehdi Machli Shahri
Ghazalغزل
جو التفات ذرا بھی نگاہ یار کرے مری خزاں کو نہ شرمندۂ بہار کرے وہ زندگی کہ جو تار نفس پہ ہو موقوف خلاف عقل ہے اس کا جو اعتبار کرے چھپا رہا ہوں میں اے ضبط غم محبت کو مگر یہ ڈر ہے کہ افشا نگاہ یار کرے جو بن گیا ہے سبب راحتوں کا دنیا میں وہی گناہ نہ محشر میں شرمسار کرے اسی کو حاصل صد زندگی سمجھتا ہوں وہ نقد عمر جسے صرف راہ یار کرے سپاس سنج خزاں ہی تمام عمر رہوں وہ دل نہ دے کہ جو گرویدۂ بہار کرے وہ جان دے نہ سکوں کی تلاش ہو جس کو وہ دل ہمیں دے جو ہر لحظہ بے قرار کرے زہے نصیب مرے واہ رے کرم اس کا جو اپنے بندوں میں مجھ کو بھی وہ شمار کرے بناؤں رشک بہاراں نہ کس لئے اس کو وہ زخم جو مرے سینے کو گلعذار کرے طریق کار ہمیں ہو عطا وہی یا رب بنائے رسم محبت جو استوار کرے پیام وصل نہ کیوں لے کے موت آ جائے تمام عمر اگر صرف راہ یار کرے دیار سرور خوباں سے وہ نسیم آئے مری خزاں کو جو سرمایۂ بہار کرے نہ سرگراں ہو وہی بادہ چاہتا ہوں میں وہ بادہ کیا ہو جو صرف رہ خمار کرے جو انقلاب پسند کائنات خود ہی ہو تو پھر زمانے کا کیا کوئی اعتبار کرے میں مٹ چکا ہوں مگر ڈر مجھے یہ ہے مہدیؔ ستم نئے نہ کہیں اور روزگار کرے
jo iltifaat zaraa bhi nigaah-e-yaar kare
تاریکیوں میں نور کا یا رب گزر نہ ہو میری وہ شام ہو جو رہین سحر نہ ہو میں صرف انتظار رہ یار ہی رہوں میری شب فراق کبھی مختصر نہ ہو بے رہ روی کی منزل آوارگاں میں بھی تھک جاؤں تو تلاش رہ و راہبر نہ ہو گم کردہ راہ ہو کے بھٹکتا ہی میں رہوں غربت کی شام میں بھی رفیق سفر نہ ہو شجر حیات باغ جہاں میں ہماری طرح قطع و برید دہر سے یوں بے ثمر نا ہو کیوں وقف صد الم نہ ہوں انفاس مستعار کیوں جانستاں مرے لئے مرگ پسر نہ ہو بیگانہ وار ہو کے میں اپنے وجود سے پہنچوں وہیں جہاں مجھے اپنی خبر نہ ہو مہماں ہوں چند دن کا گو اے شام بے کسی مشق ستم میں تیرے مگر کچھ کسر نہ ہو تو آ حریم ناز سے اے حسن شعلہ پاش مجھ کو وہ آنکھ دے جسے تاب نظر نہ ہو لوگوں کی ہر دعا تو ہو مقبول بارگاہ میری اک آہ نیم شبی میں اثر نہ ہو کہتے ہیں اک جہاں جسے مردان خود فریب ہنگامہ آفرینئ شام و سحر نہ ہو جس نے کیا ہے درہم و برہم نظام دہر یا رب کسی کی وہ نگہ فتنہ گر نہ ہو جاں کندنی میں بھی نہ ہو کوئی شریک حال مر جاؤں بھی تو پاس کوئی نوحہ گر نہ ہو میت کے ساتھ ساتھ فرشتوں کا ہو ہجوم انساں کوئی شریک جنازہ مگر نہ ہو آئے نہ بعد دفن کہیں صبح باز پرس شام مراد میری کہیں مختصر نہ ہو کیوں کر ہو کامیاب جہان خراب میں طبع حزین و زار میں ہمت اگر نہ ہو جنت کی آرزو میں یہ طاعت عبث ہے شیخ شاید کسی کے فضل پہ یہ منحصر نہ ہو ہر ذرہ رشک طور نظر آ رہا ہے جو ہوتا ہے یہ گماں کہ فریب نظر نہ ہو ہو نور انبساط سے ہر شخص بہرہ ور یا رب جہاں میں کوئی بھی ظلمت بسر نہ ہو ہر نقش پا کو دیکھ کے جھک جاتی ہے جبیں یہ جان کر کہیں وہ تری رہ گزر نہ ہو پرواز جعفری ہو عطا میری نعش کو میرا جنازہ اٹھ کے کہیں بار سر نہ ہو جن کو ہے واسطہ مری جان عزیز سے بربادیوں کی میرے انہیں کچھ خبر نہ ہو آساں ہو راہ زیست تو گر پڑ کے ایک دن دشوار تو یہی ہے کہ دشوار تر نہ ہو مبذول اس کے رحم و کرم کو جو کر سکے مہدیؔ وہ آہ میری ہو جو بے اثر نہ ہو
taarikiyon mein nuur kaa yaa-rab guzar na ho
طواف میکدہ ہی سے ہے مجھ کو کام اے ساقی یہی ایماں یہی ہے شغل صبح و شام اے ساقی بڑھا دے میری جانب بھی کچھ ایسے جام اے ساقی مٹے جن سے کہ فکر گردش ایام اے ساقی ترے در سے جو پھر جاؤں گا میں ناکام اے ساقی بتا دے تو ہی کیا ہوگا مرا انجام اے ساقی مجھے دونوں جہاں سے کر دے جو بے کام اے ساقی ہو جس میں عکس روئے یار دے وہ جام اے ساقی جو لے لے میری راحت اور مرا آرام اے ساقی رہے جو حشر تک گردش میں دے وہ جام اے ساقی پلا کر مے مجھے تو چھیڑ دے ساز طرف ایسا سنا دے بے خودی کا مجھ کو جو پیغام اے ساقی وہ مے آلود خرقہ دے خدا کے واسطے مجھ کو زمانے بھر میں جو کر دے مجھے بدنام اے ساقی مٹا دے خود پرستی کو جو مے وہ مے عطا کر دے وہ مے جس سے نہ ہو پروائے ننگ و نام اے ساقی یہ ہے کس رند کی میت جو مے سے غسل دیتے وقت مچا ہے میکشوں میں ہر طرف کہرام اے ساقی اسی سے ہوتی جاتی ہے جراحت میرے زخموں کی بتاؤں کیا تجھے میں لذت دشنام اے ساقی مئے سر خوش مجھے وہ تو پلا دے اپنے ہاتھوں سے بھلا دے جو مرے دل سے غم ایام اے ساقی ہماری بادہ نوشی حشر میں بھی رنگ لائے گی وہی لغزش وہی ہاتھوں میں ہوگا جام اے ساقی اتر آئی مرے دل میں جو چھلکی تیری آنکھوں سے یہی شیشہ ہے میرا اور یہی ہے جام اے ساقی مجھے مے دینے سے کس واسطے تو ہچکچاتا ہے مجھے معلوم ہے آغاز اور انجام اے ساقی خمار بادہ سے ہوتا ہے جس دم سرگراں مہدیؔ بتا دیتی ہے میری لغزش ہر گام اے ساقی
tavaaf-e-mai-kada hi se hai mujh ko kaam ai saaqi
رائیگاں کاش مرا نالۂ شب گیر نہ ہو آہ میری نہ ہو وہ جس میں کہ تاثیر نہ ہو بنتے ہی رہتے ہیں مٹ مٹ کے نقوش ہستی جو بگڑ کے نہ بنے وہ مری تقدیر نہ ہو تیری رحمت کا تقاضہ تو یہ ہے شان کرم بندہ تیرا کوئی شرمندۂ تقصیر نہ ہو کار فرما ہی رہے خود ہی جو منشائے ازل سعی پیہم کبھی منت کش تدبیر نہ ہو اپنی محرومی کا جس کو ہو گلہ حشر کے دن ڈر رہا ہوں کہ کہیں وہ مری تقدیر نہ ہو مائل لطف و کرم جو نہ ہو وہ کب ہے خدا بندہ وہ بندہ نہیں جس سے کہ تقصیر نہ ہو اپنے محبوب کی امت کا رہے کچھ تو لحاظ تیرے ہوتے ہوئے ہم بندوں کی تحقیر نہ ہو سامنے آئے تو رویا کی حقیقت جانوں خواب ہی کیا وہ جو شرمندۂ تعبیر نہ ہو شرح روداد محبت لب خاموش نہ ہوں بے زبانی غم دل کی کہیں تفسیر نہ ہو حوصلہ میری امیدوں کا جو بڑھتا ہی رہے نا مرادی کی مرے سامنے تصویر نہ ہو جانتا ہوں کہ بہار آئے گی لیکن مہدیؔ مانع دشت نوردی کہیں زنجیر نہ ہو
raaegaan kaash miraa naala-e-shab-gir na ho
زندگی کا کوئی حاصل ہی نہیں یہ وہ جادہ ہے کہ منزل ہی نہیں ہر طرف چھائی ہوئی افسردگی محفلوں میں رنگ محفل میں نہیں چلتی تو ہے کشتیٔ عمر رواں بحر ناکامی کا ساحل ہی نہیں ترک تو کر دوں میں رنج عاشقی کیا کروں قابو میں جب دل ہی نہیں نجد کی راہوں میں اب مجنوں کہاں جبکہ لیلیٰ اور محمل ہی نہیں غم ہی ہم آہنگ فطرت ہو تو ہو اے خوشی میں تیرے قابل ہی نہیں سوز پروانہ تو ہے اپنی جگہ جلوہ آرا شمع محفل ہی نہیں جلوۂ صد رنگ آئے کیا نظر آئنہ کوئی مقابل ہی نہیں لا مکاں میں ہو تو شاید ہو مقام دونوں عالم میری منزل ہی نہیں لٹ نہ جائے کاروان زندگی پاس میرے جب مرا دل ہی نہیں خضر رہ کی کیوں مجھے ہے جستجو راہبر جب جذب کامل ہی نہیں کس لئے مہدیؔ لگی میرے گلے زندگی میں جس کے قابل ہی نہیں
zindagi kaa koi haasil hi nahin
حقیقت تو یہ ہے یاور اگر تقدیر ہوتی ہے تو ہر مشکل میں پیدا اک نہ اک تدبیر ہوتی ہے نکلتی ہے جو دل سے آہ وہ اکسیر ہوتی ہے دعائے صبح گاہی میں عجب تاثیر ہوتی ہے شب وعدہ ترے آنے میں جب تاخیر ہوتی ہے ہماری ہر نظر اک یاس کی تصویر ہوتی ہے ہمیں کیوں منع کرتا ہے تو واعظ بت پرستی سے صنم خانے ہی میں کعبہ کی بھی تعمیر ہوتی ہے کسی کی شان رحمت کہہ گئی میری ندامت سے جو بندے ہیں انہیں سے اصل میں تقصیر ہوتی ہے شریک شام تنہائی نہیں ہوتا اگر کوئی مری آنکھوں میں تو دل میں تری تصویر ہوتی ہے خطائیں ہوتی رہتی ہیں نظر انداز غیروں کی مری ہر بے گناہی قابل تعزیر ہوتی ہے فقط ہے دشت پیمائی سے مطلب چارہ گر ہم کو کہیں ہم وحشیوں کے پاؤں میں زنجیر ہوتی ہے عطا کر ایسے نالے جو ترے در تک پہنچ جائیں ہمیں وہ آہ دے جس آہ میں تاثیر ہوتی ہے مری میت کا نقشہ کھینچنے دو میرے مدفن میں یہی تو زندگی کی آخری تصویر ہوتی ہے ہماری آنکھ لائے تاب جلوہ کس طرح مہدیؔ نظر اٹھتی ہے جو وہ چادر تنویر ہوتی ہے
haqiqat to ye hai yaavar agar taqdir hoti hai





