
Mehrbaan Amrohvi
Mehrbaan Amrohvi
Mehrbaan Amrohvi
Ghazalغزل
jo saamne tufaan ke aayaa nahin karte
جو سامنے طوفان کے آیا نہیں کرتے ہم ایسے چراغوں کو جلایا نہیں کرتے جو سن کے اڑا دیتے ہوں ہر بات ہنسی میں احوال انہیں دل کے سنایا نہیں کرتے کس طرح پھلے پھولے محبت یہ ہماری وہ روٹھ تو جاتے ہیں منایا نہیں کرتے رکھتے ہیں موبائل میں محبت کی نشانی اب پھول کتابوں میں چھپایا نہیں کرتے تعداد ستاروں کی زیادہ تو ہے لیکن سورج کے مقابل کبھی آیا نہیں کرتے رضوان بنے بیٹھے ہیں وہ لوگ یہاں پر جو پیر کبھی ماں کے دبایا نہیں کرتے کہتے ہیں بڑے بوڑھے کی گھٹ جاتی ہیں عزت ہر روز کسی کے یہاں جایا نہیں کرتے
ek viraani si chhaai aap ke jaane ke baad
ایک ویرانی سی چھائی آپ کے جانے کے بعد دل میں ہے وحشت سمائی آپ کے جانے کے بعد دن گزرتا ہی نہیں اور رات بھی کٹتی نہیں جان پر میری بن آئی آپ کے جانے کے بعد رونا دھونا کچھ نہ کھانا اور جھڑک کر بولنا ہم نے یہ عادت بنائی آپ کے جانے کے بعد دکھ دیے تکلیف دی خود کو ملامت بھی کیا ہو گئی خود سے لڑائی آپ کے جانے کے بعد ہوں مریض عشق مجھ کو چین کچھ آتا نہیں بے اثر ہے ہر دوائی آپ کے جانے کے بعد وحشت صحرا بھی مجھ کو دیکھ کر حیران ہے میں نے وہ حالت بنائی آپ کے جانے کے بعد ایک دھوکا ہے محبت دوستی بھی ہے فریب یہ سمجھ میں بات آئی آپ کے جانے کے بعد ضو فشاں جگنو ستارے چاندنی تھی مہرباںؔ پھر کبھی وہ شب نہ آئی آپ کے جانے کے بعد
kisi ko husn kisi ko adaa nahin detaa
کسی کو حسن کسی کو ادا نہیں دیتا کمال سب کو خدا ایک سا نہیں دیتا عجیب شخص ہے بھٹکے ہوئے مسافر کو پتہ تو دیتا ہے پر راستہ نہیں دیتا یہ سب ہمارے ہی کمال کا نتیجہ ہے خدا کسی کو کبھی خود سزا نہیں دیتا اسے کسی بھی وسیلے کی کیا ضرورت ہے وہ حال دل مجھے خود کیوں بتا نہیں دیتا یہ بدگمانیاں اچھی نہیں کسی کے لئے تو بد دعا بھی نہ دے گر دعا نہیں دیتا یہ دور دور موبائل ہے اب یہاں انساں تماشہ دیکھتا ہے آسرا نہیں دیتا یہ مہربانؔ بھی ہجرت قبول کر لیتا وہ مجھ کو اپنا اگر واسطہ نہیں دیتا
ishq jab ishq se laDaa hogaa
عشق جب عشق سے لڑا ہوگا حادثہ وہ بہت بڑا ہوگا آج پھر آپ ملنے آئے ہیں پھر کوئی کام آ پڑا ہوگا کون دیکھے گا پھر مری جانب جب مرے پاس وہ کھڑا ہوگا آپ نے منتیں بھی کی ہوں گی وہ مگر ضد پہ ہی اڑا ہوگا جتنا آساں سمجھ رہے ہو تم امتحاں اتنا ہی کڑا ہوگا آپ نے جو دیا تھا تاج محل دیکھتا ہوں کہیں پڑا ہوگا مہرباںؔ تم اگر جو ہو جاؤ مجھ پہ احسان یہ بڑا ہوگا
mere haalaat se munh moD ke jaane vaale
میرے حالات سے منہ موڑ کے جانے والے تجھ سے کچھ پوچھ رہے ہیں یہ زمانے والے دیکھ کر تجھ کو وہ اب راہ بدل لیتے ہیں میری آواز سے آواز ملانے والے تو بھی آ جائے گا حالات کی زد میں اک دن میری بربادی کے افسانے سنانے والے جانب شہر وفا سوچ سمجھ کر جانا لوٹ کے آتے نہیں ہیں وہاں جانے والے دل کے اس ٹوٹتے رشتے کا بھرم رہ جائے اک نظر دیکھ لے اے روٹھ کے جانے والے آ کبھی دیکھ مرا حال جدائی آ کر غیر کی بزم میں اے ہنسنے ہنسانے والے وقت سے سیکھا ہے میں نے یہ ہنر جینے کا خود ہی گر جاتے ہیں اوروں کو گرانے والے مہرباںؔ دل کا ہے نازک یہ ذرا یاد رہے اے مرے دل پہ نئے زخم لگانے والے





