Meraj Rana
کہا کس نے کہ یہ بنجر رہی ہے زمیں دل کی ہمیشہ تر رہی ہے مرے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ رکھ دے مرے اندر کوئی شے مر رہی ہے میں بھاگا جا رہا ہوں بے تحاشہ تری آواز پیچھا کر رہی ہے اندھیرے کی شکایت کیا کروں میں مری شب کب مہ و اختر رہی ہے کوئی ہوتا تو کوئی بات بھی تھی مری پرچھائیں مجھ سے ڈر رہی ہے
kahaa kis ne ki ye banjar rahi hai