Meraj Rana
ye kis sadaa pe qadam rah badalne lagte hain
یہ کس صدا پہ قدم رہ بدلنے لگتے ہیں لگے جو آنکھ تو خوابوں میں چلنے لگتے ہیں میں اپنی پیاس کو دفنانا چاہتا ہوں جہاں اسی زمین سے چشمے ابلنے لگتے ہیں اندھیری رات میں اس کا خیال آتے ہی جبیں پہ چاند ستارے نکلنے لگتے ہیں یہی نہیں کہ چراغوں کو نیند آتی ہے ہوا کے لمس سے ہم بھی پگھلنے لگتے ہیں یہ کون ہم پہ برستا ہے ابر کی صورت چراغ ہجر کی جب لو میں جلنے لگتے ہیں