SHAWORDS
Minhaj Naqeeb

Minhaj Naqeeb

Minhaj Naqeeb

Minhaj Naqeeb

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

zindagi meri mujhe degi sazaaein kab tak

زندگی میری مجھے دے گی سزائیں کب تک رائیگاں جائیں گی راتوں کی دعائیں کب تک چاندنی پیار کی جس گھر میں اتر جائے گی اس کو ٹھکرائیں گی نفرت کی گھٹائیں کب تک دل کو جو زخم دئیے تو نے وہ ناسور بنے تو ہی کہہ دے کہ زمانے سے چھپائیں کب تک آج کے دور کا انسان پریشاں ہے بہت اس کو بھٹکائیں گی گم کردہ دشائیں کب تک آج انصاف تجوری میں مقید ہے یہاں سب کے دروازوں پہ ہم دیں گے صدائیں کب تک

غزل · Ghazal

sach hi likhaa thaa ik insaan ne jis din kaljug aaegaa

سچ ہی لکھا تھا اک انسان نے جس دن کلجگ آئے گا لولے لنگڑے راج کریں گے اندھا راہ دکھائے گا دھرم کا کہنا جو کوئی بھی مانے گا سچے دل سے ہم سے پیار کرے گا وہ ہی سب کا دکھ اپنائے گا چور اچکے غنڈے لچے جو مندر میں بیٹھے ہیں ان سے کیوں کر دھرم کرم کا کام کوئی ہو پائے گا دکھ سے پیڑت فکر سے گھائل جب ساری مانوتا ہے پھر کیوں کوئی انتر من سے خوش ہو کر ہنس پائے گا لوگ قیامت کی تیاری بھوکے رہ کر کرتے ہیں کس کو پتہ تھا انسان اتنا مورکھ بھی ہو جائے گا رات اندھیری بادل گرجے بجلی چمکی مینہ پڑے پھر کیا بھیانک طوفاں سے یہ جگ سارا بہہ جائے گا

غزل · Ghazal

jafaa vo karte rahe aise bevafaa ki tarah

جفا وہ کرتے رہے ایسے بے وفا کی طرح گلہ بھی کر نہ سکا میں کبھی گلہ کی طرح وہ سنگ دل ہے ستم گر ہے بے مروت ہے جو غم کا حال سنے صرف واقعہ کی طرح کسی کے بچنے کا امکاں نظر نہیں آتا فضا میں زہر ہے پھیلا ہوا ہوا کی طرح میں شاید اوب چکا ہوں حیات سے اپنی مجھے حیات بھی لگتی ہے اب قضا کی طرح کسی کو ڈس لیں تو پانی نہ پی سکے یارو ہیں ایسے لوگ یہاں ناگ دیوتا کی طرح وہ اپنا جرم چھپانے کو شمر بن بیٹھے ہمارا شہر بھی لگتا ہے کربلا کی طرح تمہارا حسن و شباب ان دنوں معاذ اللہ نظر جماؤں تو چھانے لگے نشہ کی طرح چمن کو پھول تو پھولوں کو چاہئے خوشبو ہر ایک شے ہے یہاں دوستو گدا کی طرح نقیبؔ اب کوئی پہچان ہی نہیں اپنی یہاں تو چھا گئی تہذیب نو بلا کی طرح

غزل · Ghazal

zindagi kaamyaab do baabaa

زندگی کامیاب دو بابا یا ٹکا سا جواب دو بابا ہو سکے تو کبھی مسرت کا میری آنکھوں کو خواب دو بابا خار سے ہو نہ واسطہ جس کا کوئی ایسا گلاب دو بابا ہو کے بے پردہ کھاؤ گے نشتر اپنے رخ کو نقاب دو بابا کس قدر یہ انارکی ہر سو ہو سکے تو حساب دو بابا میں حقیقت کو پا کے ہوں غمگیں خوب صورت سراب دو بابا ہوش سے بھی جو کر دے بیگانہ کوئی ایسی شراب دو بابا میں سمندر میں رہ کے تشنہ ہوں مجھ کو خوشیوں کا آب دو بابا اس صدی کو بھی اب خدا کے لئے اک سنہرا سا باب دو بابا بخت کی تیرگی سہوں ہنس کر کم سے کم اتنی تاب دو بابا زور جو توڑ دے تعصب کا کوئی ایسا نصاب دو بابا

Similar Poets