SHAWORDS
Minu Bakshi

Minu Bakshi

Minu Bakshi

Minu Bakshi

poet
16Ghazal

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

بت کی مانند نہ اپنے کو بنائے رکھنا جس جگہ رہنا وہاں دھوم مچائے رکھنا خود کو دریا میں نہ قطروں سا ملائے رکھنا منفرد ہونے کا احساس دلائے رکھنا کام فرزانۂ دنیا کا نہیں اے ناصح پرچم عشق زمانے میں اٹھائے رکھنا چشم مخلوق ہے میزان رضائے مولا چشم‌ مخلوق میں خود کو نہ گرائے رکھنا تجھ کو دینا ہو اگر ظلمت ہجراں کو شکست شمع بجھ جائے مگر دل نہ بجھائے رکھنا قلب خود دار کی خاطر تو ہے ذلت کا سبب لو سدا اس بت کافر سے لگائے رکھنا جس سے ملتی ہو ہر اک لحظہ غزل کی خوشبو صحن احساس میں وہ پھول کھلائے رکھنا میرے دل کو تو کسی حال میں منظور نہیں فکر دنیا میں تری یاد بھلائے رکھنا

but ki maanind na apne ko banaae rakhnaa

5 views

غزل · Ghazal

بیٹھے بیٹھے جو طبیعت مری گھبرائی ہے اور شدت سے مجھے یاد تری آئی ہے اس سے بچھڑوں‌ گی تو زندہ نہیں رہ پاؤں گی میری مونس مری ہم راز یہ تنہائی ہے جستجو اب ہے مسرت کی نہ تو غم کی تلاش بے حسی مجھ کو کہاں لے کے چلی آئی ہے ڈوب کر ان میں نہ ابھرا ہے نہ ابھرے گا کوئی جھیل سی آنکھوں میں پاتال سی گہرائی ہے مجھ میں ہر سمت ضیا بار ہیں ان کی یادیں چاندنی آج مرے دل میں اتر آئی ہے مجھ سے وہ راہ میں کترا کے نکل جانے لگے میں نے بھی ان سے نہ ملنے کی قسم کھائی ہے شب افسانہ منور ہے نہ اب شام غزل انجمن ہے نہ کہیں انجمن آرائی ہے

baiThe baiThe jo tabiat miri ghabraai hai

3 views

غزل · Ghazal

بس کہ مجھ سے وہ صنم ان دنوں خفا سا ہے آنکھ میری نم سی ہے دل مرا بجھا سا ہے خواہشوں کی بھیڑ میں تو نہ کھو سکا کبھی انتظار میں ترے زخم دل ہرا سا ہے آنسوؤں کی وہ ندی خشک ہو چلی مگر تیرے درد کا شجر آج بھی ہرا سا ہے آندھیوں کا غم نہیں دھوپ کا ستم نہیں چاہتوں کے پھول کا رنگ کیوں اڑا سا ہے کیا یزید وقت کی زد پہ ہے اصول حق شہر جاں میں ہر طرف شور کربلا سا ہے وہ مری حقیقتیں کر ہی دیتا ہے عیاں یعنی تیرا حسن بھی کوئی آئنہ سا ہے جس طرح بھی چاہیے آپ لطف اٹھائیے درد کا فسانہ بھی قصۂ وفا سا ہے اس کے پائے ناز پر کیوں نہ خم کروں جبیں میری چشم شوق میں وہ صنم خدا سا ہے اس کے سائے سائے ہی کٹ رہی ہے زندگی حرف حرف وہ ترا دھوپ میں گھٹا سا ہے

bas ki mujh se vo sanam in dinon khafaa saa hai

2 views

غزل · Ghazal

تمہاری بے ادائی کے مزے آنے لگے مجھ کو جو میرے دشمن جاں تھے وہ سمجھانے لگے مجھ کو تری فرقت میں حالت ہو گئی ہے آج وہ میری یہ میرے چارہ گر زنجیر پہنانے لگے مجھ کو خدایا دیکھ کر ان کو مجھے تجھ پر یقیں آیا انہیں میں تو ترے جلوے نظر آنے لگے مجھ کو دیے اشکوں کے پلکوں کی منڈیروں پر ہوئے روشن کبھی جو شام ہجراں آپ یاد آنے لگے مجھ کو نتیجہ دل کے سمجھانے کا نکلے بھی تو کیا نکلے اسے سمجھانے جو بیٹھوں وہ سمجھانے لگے مجھ کو نہ جن کے جسم پر سر ہے نہ چہرہ ہے نہ آنکھیں ہیں قیامت ہے وہی آئینہ دکھلانے لگے مجھ کو جو پتھر پھینکنے والوں کو میں نے غور سے دیکھا بہت سے لوگ ان میں جانے پہچانے لگے مجھ کو

tumhaari be-adaai ke maze aane lage mujh ko

2 views

غزل · Ghazal

نگار‌ پیکر فردا میں ڈھل کے دیکھتے ہیں ہم اپنے وقت سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تمہاری آنکھ میں تیور غزل کے دیکھتے ہیں اسی لئے تمہیں پہلو بدل کے دیکھتے ہیں سنا ہے سرخ رو ہونے کا یہ طریقہ ہے سو تیرے عشق کی آتش میں جل کے دیکھتے ہیں ہمیں ہیں ایک جو لپٹے ہیں اپنے ماضی سے جہاں میں ورنہ سبھی خواب کل کے دیکھتے ہیں یہ دیکھتے ہیں کہ کہتے ہیں لوگ کیا ہم کو مزاج وقت کے سانچے میں ڈھل کے دیکھتے ہیں جمال یار کی تابش ارے معاذ اللہ انہیں جو دیکھتے ہیں وہ سنبھل کے دیکھتے ہیں

nigaar-e-paikar-e-fardaa mein Dhal ke dekhte hain

2 views

غزل · Ghazal

اٹھا شعلہ سا قلب ناتواں سے ہوا آئی کبھی جو شہر جاں سے ہماری سمت بھی چشم عنایت تری خاطر بنے ہیں نیم جاں سے شکایت اس سے ہے جس پر فدا ہوں مجھے شکوہ نہیں سارے جہاں سے نگاہوں سے ادا کرتے ہو مطلب کہاں کہتے ہو کچھ اپنی زباں سے تمہیں تھے یا وہ پرچھائیں تمہاری ابھی بجلی سی جو گزری یہاں سے کوئی ثانی نہیں اس کا جہاں میں مجھے نسبت ہے جس سرو رواں سے مصیبت‌ آشنا یوں ہی نہیں میں جدا میں بھی ہوئی ہوں کارواں سے اداسی کس لئے پھیلی ہوئی ہے اٹھا ہے کون آخر درمیاں سے ادھر آ آشنائے راز فطرت صدا آتی ہے دشت بے کراں سے

uThaa shoala saa qalb-e-naa-tavaan se

2 views

Similar Poets