SHAWORDS
M

Miqdad Ahsan

Miqdad Ahsan

Miqdad Ahsan

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

jabr ke ikhtilaat se aayaa

جبر کے اختلاط سے آیا صبر کن مشکلات سے آیا بجھ گئی آگ تو میں اس کے قریب اور بھی احتیاط سے آیا اک ستارہ مرے مقدر کا دوسری کائنات سے آیا خامشی کے ہزارہا اسباب بولنا ایک بات سے آیا جو کسی سمت سے نہ آتا تھا ایک دن شش جہات سے آیا

غزل · Ghazal

yaksar is pur-amn fazaa mein jaane kaisaa shor khulaa

یکسر اس پر امن فضا میں جانے کیسا شور کھلا چیخ اٹھا خاموش گڈریا جنگل جاگا شور کھلا دور سے دیکھ کے لگتا تھا خاموش رہے گا ایسے ہی جب دریا میں اتر گئے تو ہم پر اس کا شور کھلا شوخ طبیعت تھی اپنی اور باتیں ختم نہ ہوتی تھیں چپ کے معنی کھل گئے ہم پر اک دن ایسا شور کھلا خاموشی تو سمجھ گئے تھے خود سے پہلے والوں کی لیکن بعد میں آنے والوں پر نہ ہمارا شور کھلا آخر ہم نے خود کو بھرنے کی بندش پہ غور کیا خالی پن میں کھول چکے تھے ہم سے جتنا شور کھلا

غزل · Ghazal

kabhi aayaa na vo qaabu hamaare

کبھی آیا نہ وہ قابو ہمارے کھلے ہی رہ گئے بازو ہمارے سسکتے اور مرتے جا رہے ہیں تمہارے دشت میں آہو ہمارے ہوئی مشکل نہ ہم سے حل تمہاری نہ سیدھے ہو سکے الو ہمارے چراغوں کے مقابل آ گئے ہیں بہت معصوم ہیں جگنو ہمارے دعائے ہجر تھی خود کو ہماری مگر آباد ہیں پہلو ہمارے مسل دو پاؤں میں تلوار اپنی لبوں سے کاٹ دو چاقو ہمارے

غزل · Ghazal

saans kaa bojh nahin aur lage bhaari bhi

سانس کا بوجھ نہیں اور لگے بھاری بھی اپنا دشمن بھی میں خود مجھ سے مری یاری بھی کام کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوتی مجھے مجھ سے دیکھی نہیں جاتی مری بیکاری بھی سامنے ہے وہ مگر چھو نہیں سکتا میں اسے ہے سہولت بھی میسر مجھے دشواری بھی یہ رویہ بھی مرے ساتھ عجب ہے میرا کہیں جانا بھی نہیں اور ہے تیاری بھی جانے والے کو صدا دیتا نہیں دیکھتا ہوں بے وقوفی بھی میں کرتا ہوں سمجھ داری بھی وقت کا زنگ بدل دے گا ترے لہجے کو کند ہو جائے گی تلوار یہ دودھاری بھی

غزل · Ghazal

har ik zabaan pe jaari hai naam pahle se

ہر اک زبان پہ جاری ہے نام پہلے سے ابھی تم آئے نہیں اور مقام پہلے سے اسی لیے تو اسے وار کرنے دینا ہے کہ لے چکا ہوں کوئی انتقام پہلے سے ابھی تو ٹھیک سے ڈھلتے نہیں ہیں سائے بھی منائی جا چکی ہوتی ہے شام پہلے سے پہنچ رہے ہیں جہاں شاہزادے اس کے لیے کھڑا ہوا ہے وہاں اک غلام پہلے سے میں شعر کہتے ہوئے احتیاط کرتا ہوں کہیں کیا نہ گیا ہو یہ کام پہلے سے حسینؓ بعد میں پہنچے میان کرب و بلا لکھا ہوا تھا خدا نے سلام پہلے سے

غزل · Ghazal

meri bezaar tabi'at rahe aasaani mein

میری بیزار طبیعت رہے آسانی میں اس لیے قحط زدہ ہوں میں فراوانی میں ایسی غفلت کی تو امید نہیں تھی تجھ سے بھر گئے زخم مرے تیری نگہبانی میں میں کچھ اس واسطے بھی الجھا ہوا رہتا ہوں سوچ کے دائرے کھلتے ہیں پریشانی میں رو نہ دیتا تو میں ناراض ہی رہتا اس سے خود کو پانی کے حوالے کیا طغیانی میں ورنہ وہ لہر گزر جاتی مرے سامنے سے ناؤ کو چھوڑ کے میں کود گیا پانی میں رکھ نہیں پاتا میں تنہائی کو پھر اس کی جگہ اب کوئی شخص نہ آئے مری ویرانی میں

Similar Poets